نیشنل

گاو رکھشکوں کو عمر قید سنانے والی خاتون جج تبسم خان کو تحفظ فراہم کرنے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی  پولیس کو ہدایت 

بھوپال: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے گائے اسمگلنگ کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کے مقدمہ میں سات ملزمین کو عمر قید کی سزا سنانے والی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان کو ملنے والی جان سے مارنے کی دھمکیوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے انہیں فوری پولیس تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

 

جسٹس ویویک اگروال اور جسٹس اونیندر کمار سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے  سماعت کے دوران کہا کہ عدالتی افسران کو دھمکیاں دینا عدلیہ کی آزادی اور بے خوف انداز میں انصاف کی فراہمی پر براہ راست حملہ ہے۔

 

عدالت نے حکم دیا کہ نرمداپورم کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فوری طور پر جج تبسم خان کو سکیورٹی فراہم کریں۔ یہ حکم اس پس منظر میں جاری کیا گیا کہ 12 جون کو جج تبسم خان نے 2022 میں ٹرک ڈرائیور نذیر احمد کے قتل کے مقدمہ میں سات افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ نذیر احمد کو مبینہ گائے اسمگلنگ کے الزام میں ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

 

فیصلہ کے بعد جج تبسم خان کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں، فرقہ وارانہ تبصرے، سوشل میڈیا پر مہم اور ان کے مذہبی تشخص کی بنیاد پر جانبداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سلسلہ میں مدھیہ پردیش پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔

 

ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر کسی کو عدالتی فیصلہ سے اختلاف ہو تو اس کے لئے اپیل یا نظرثانی جیسے قانونی راستے موجود ہیں، لیکن کسی جج کو فیصلہ سنانے پر دھمکانا ہرگز قابل قبول نہیں۔

 

ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ جج کو پہلے ہی پولیس تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے، تاہم عدالت نے نرمداپورم کے ایس پی کو ہدایت دی کہ وہ دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات پر مبنی حلف نامہ پیش کریں۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) اور محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری/پرنسپل سیکریٹری سے بھی شخصی حلف نامے طلب کئے گئے ہیں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 9 جولائی کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button