احمد آباد 2008 سلسلہ وار بم دھماکہ کیس: گجرات ہائی کورٹ نے 38 کی سزائے موت اور 11 کی عمر قید کی سزا رکھی برقرار

نئی دہلی: احمد آباد میں 2008 کے سیریل بم دھماکوں کے مقدمے میں گجرات ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے 38 مجرموں کی سزائے موت اور 11 مجرموں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے اس طرح خصوصی عدالت
(اسپیشل کورٹ) کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ یہ مقدمہ ملک کے سنگین ترین دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے جس میں متعدد افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔ہائی کورٹ نے تمام متاثرین کو معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا
ہے۔ 2008 کے احمد آباد بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے 56 افراد کے اہلِ خانہ کو 10،10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا جبکہ 200 سے زائد زخمیوں کو ایک، ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔واضح رہے کہ واقعے کے 14 سال بعد 2022 میں
خصوصی عدالت نے 49 مجرموں میں سے 38 کو سزائے موت اور 11 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ سزائیں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (UAPA) اور تعزیراتِ ہند (IPC) کی دفعہ 302 کے تحت دی گئی تھیں۔خصوصی عدالت نے
اس مقدمے کو "انتہائی اہم مقدمہ” (Rarest of Rare Case) قرار دیا تھا۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت کی عدالتی تاریخ میں یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں ایک ہی کیس میں سب سے زیادہ افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔ اس سے قبل
سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے مقدمے میں 26 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جولائی 2008 کو شام تقریباً ساڑھے چھ بجے احمد آباد کے مختلف مقامات پر سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے۔ تقریباً 70 منٹ کے اندر 21
دھماکے کیے گئے جن میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ 2008 کے احمد آباد سیریل بم دھماکوں میں حملہ آوروں نے شہر کے کئی گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنایا جن میں بسیں، بازار اور یہاں تک کہ اسپتال بھی
شامل تھے۔ دھماکوں کے بعد احمد آباد اور سورت سے کئی ناکارہ بم بھی برآمد کیے گئے تھے۔دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تفتیشی اداروں کے مطابق یہ حملے 2002 کے گجرات فسادات کا
بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے۔اس مقدمے میں پولیس نے 78 افراد کو ملزم نامزد کیا تھا اور مجموعی طور پر 35 الگ الگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان مقدمات کی سماعت کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی
گئی۔سماعت کے دوران عدالت نے 1,150 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔ بعد ازاں 8 فروری 2022 کو خصوصی عدالت نے 6,700 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
اس فیصلے کو مجرموں نے گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ طویل سماعت کے بعد منگل کے روز ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔



