ایران کی شرطوں پر ہی کھلے گا ہرمز آبنائے امریکہ کی دھمکیوں سے نہیں : غالیباف

نئی دہلی: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے جمعرات کو کہا کہ آبنائے ہرمز کو امریکہ کی دھمکیوں پر نہیں، بلکہ ایران کی شرطوں پر ہی دوبارہ کھولا جائے گا۔پریس ٹی وی کے مطابق غالیباف نے کہا
"امریکہ نے ابھی تک یہ نہیں سیکھا ہے کہ دھونس جمانے اور اپنے وعدوں کو توڑنے کی اب قیمت چکانی پڑتی ہے۔ میں واضح کر دوں کہ اگر آپ حملہ کریں گے تو جوابی حملہ جھیلیں گے۔ بیکار کی لڑائی مت کیجئے اس سے آپ اور گہرے بحران میں پھنسیں گے۔
آبنائے ہرمز صرف ایرانی نظام کے تحت کھلے گا امریکی دھمکیوں سے نہیں۔”اس سے پہلے ایرانی میڈیا نے خلیج فارس میں واقع ابو موسیٰ جزیرے اور ایران کے ایران شہر، چابہار، کونارک، سیریک، جاسک اور بندر عباس شہروں میں دھماکوں کی اطلاع دی۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق بندر عباس میں فضائی دفاعی دستوں نے شہر کے آسمان میں امریکی اہداف پر فائرنگ کی۔امریکی فوج نے چہارشنبہ کو ایران پر کئی حملے کیے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ آبنائےہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے بعد کہا کہ جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی۔
ایران نے امریکہ پر دونوں ممالک کے درمیان ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے۔



