مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کی آگ بھڑک اٹھی، ایران کی جوابی کاروائی، بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی اڈوں پر حملے

نئی دہلی: مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ کی آگ میں گھِر گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے باعث خلیجی ممالک میں خطرے کے سائرن بج رہے ہیں۔ امریکی حملوں پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے تہران نے جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ایران نے بحرین اور کویت میں امریکہ کے 85 فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل داغے ہیں۔آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں امریکہ نے ایران کے فضائی دفاعی نظام اور ساحلی نگرانی کے نظام پر فضائی حملے کیے۔ اس پر آئی آر جی سی نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
اس نے کہا کہ وہ بھی اس کا جواب دے گااسی لیے یہ تازہ آپریشن شروع کیا گیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ، کویت کے علی السالم ایئر بیس سمیت امریکہ کے 85 اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بوشہر میں امریکہ کا جدید MQ-9 ڈرون مار گرایا گیا ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ آئی آر جی سی نے الزام لگایا کہ واشنگٹن ان کی تاریخی تقریب کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے اسپیکر غالباف نے سوشل میڈیا پر لکھا "دھمکیوں اور دباؤ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب ہم ہرگز سر نہیں جھکائیں گے۔
امریکہ سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، لیکن چاہے وہ کتنا ہی دباؤ ڈالے، تہران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔”امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے۔ بیان کے مطابق تقریباً 80 سے زائد اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا جن میں تہران کے کمانڈ اور کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار سائٹس، اینٹی شپ میزائل صلاحیتیں اور فضائی دفاعی نظام شامل تھے۔
امریکی دعوے کے مطابق ان حملوں میں آئی آر جی سی کی 60 چھوٹی کشتیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اس وقت نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے ترکیہ میں موجود ہیں اور انہوں نے وہیں سے ایران پر تازہ حملوں کے احکامات جاری کیے۔



