کسان اور ڈرائیور کے بیٹے روح الامین و ساحل نے NEET میں حاصل کی شاندار کامیابی
حیدراباد -19 جولائی ( اردو لیکس ڈیسک) مالی مشکلات اور بار بار ناکامیوں کے باوجود مغربی بنگال کے مالدہ ضلع کے دو پُرعزم نوجوانوں نے نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (NEET-UG) میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے اپنے گاؤں کا نام روشن کردیا۔ روح الامین نے تیسری کوشش میں جبکہ ساحل احمد نے پانچویں کوشش میں میڈیکل داخلہ امتحان کامیاب کیا اور برسوں کی محنت کو شاندار کامیابی میں بدل دیا۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی جانب سے جمعرات کو نتائج جاری کئے جانے کے بعد پورے ضلع میں جشن کا ماحول دیکھا گیا۔ روح الامین نے 575 نمبرات کے ساتھ آل انڈیا رینک 20,302 حاصل کیا، جبکہ ساحل احمد نے 543 نمبرات کے ساتھ آل انڈیا رینک 43,208 حاصل کیا۔ دونوں نوجوان انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ روح الامین ایک کسان کے بیٹے ہیں جبکہ ساحل احمد کے والد ڈرائیور ہیں۔
روح الامین، کسان رفیق العالم کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ رفیق العالم کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ گاؤں کے لوگوں کو معمولی طبی امداد بھی فراہم کرتے ہیں۔ خاندان کی مالی مشکلات کے باوجود روح الامین کے والدین نے ان کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی۔
روح الامین نے 2021 میں چانچل کے ڈی آئی بی ہائی اسکول سے ثانوی تعلیم مکمل کی اور 92 فیصد نمبرات حاصل کئے۔ اس کے بعد 2023 میں ہاوڑہ کے دکسرہ ہائی اسکول سے اعلیٰ ثانوی تعلیم مکمل کرتے ہوئے 77 فیصد نمبرات حاصل کئے۔
بعد ازاں انہوں نے میڈیکل داخلہ امتحان کی تیاری شروع کی۔ ابتدائی طور پر وہ اپنے گاؤں کے گھر سے تیاری کرتے رہے، اس کے بعد مزید تیاری کے لئے کولکاتا کے نیو ٹاؤن میں واقع الامین مشن میں داخلہ لیا۔ روح الامین پہلی دو کوششوں میں NEET کامیاب نہیں کرپائے، تاہم انہوں نے تیاری جاری رکھی اور تیسری کوشش میں کامیابی حاصل کرلی۔
مقامی باشندے عبدالخالق نے کہا کہ ہمارے گاؤں سے پہلی مرتبہ کوئی ڈاکٹر بننے جارہا ہے۔ روح الامین پورے گاؤں کا فخر ہیں۔ ان کی کامیابی سے ہر شخص خوش ہے۔
روح الامین کے والد رفیق العالم نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے گزاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود میں نے بی اے مکمل کیا تھا اور سرکاری ملازمت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ کئی کوششوں کے باوجود یہ خواب پورا نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد مجھے امید تھی کہ میں یہ خواب اپنے بیٹے کے ذریعے پورا کروں گا۔ روح الامین کے NEET کامیاب کرنے کے بعد مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میرا خواب پورا ہونے کی سمت ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ جس دن میرا بیٹا ایک کامیاب ڈاکٹر بن کر گاؤں واپس آئے گا، وہ دن میرے خواب کی حقیقی تکمیل کا دن ہوگا۔
رفیق العالم نے بتایا کہ انہیں کھیتی باڑی اور گاؤں کے لوگوں کو معمولی طبی امداد فراہم کرنے سے ماہانہ تقریباً 20 ہزار روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آمدنی سے خاندان کی کفالت، بیٹے کی تعلیم کے اخراجات اور گھر کے دیگر خرچ پورے کرنا مشکل تھا، لیکن میں نے کبھی اپنے بیٹے کو مالی مشکلات کا دباؤ محسوس نہیں ہونے دیا۔ آج مجھے لگ رہا ہے کہ ہماری محنت آخرکار رنگ لے آئی ہے۔
روح الامین نے کہا کہ ان کے گاؤں سے آج تک کوئی ڈاکٹر نہیں بنا اور وہ اس گاؤں کے پہلے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے گاؤں کے غریب لوگوں کو مفت طبی خدمات فراہم کرنا چاہتا ہوں۔اپنے حوصلے کے بارے میں روح الامین نے بتایا کہ ان کے والد اکثر معمولی بیماریوں میں مبتلا گاؤں کے لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو سنگین بیماریاں لاحق ہوتی ہیں تو کئی خاندان مناسب علاج کرانے کے لئے مالی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عام لوگوں کے لئے علاج دن بہ دن مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ میرا خواب ڈاکٹر بن کر اپنے گاؤں کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔
روح الامین کی کامیابی کے ساتھ مالدہ کے ایک اور NEET کامیاب امیدوار ساحل احمد بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مانک چک بلاک کے عنایت پور کے موہنا علاقے کے رہنے والے ساحل احمد نے مسلسل چار مرتبہ ناکامی کے بعد پانچویں کوشش میں NEET کامیاب کیا۔ انہوں نے 543 نمبرات حاصل کرتے ہوئے آل انڈیا رینک 43,208 حاصل کیا۔
ساحل احمد ڈرائیور محمد شاہجہاں اور گھریلو خاتون سبینہ یاسمین کے بیٹے ہیں۔ ان کے والد نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے کی کامیابی پر فخر ہے۔ساجہان نے کہا کہ عزم، قربانی اور مسلسل محنت کے ذریعے میرا بیٹا اپنے خواب کی تکمیل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ میں اس کی کامیابی سے بہت خوش ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ وہ زندگی میں مزید بڑی کامیابیاں حاصل کرے۔
روح الامین اور ساحل احمد کی کامیابی نے مالدہ کے طلبہ میں نیا حوصلہ پیدا کیا ہے۔ دونوں نوجوانوں کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ مسلسل محنت اور پختہ عزم کے ذریعے نوجوان بار بار کی ناکامیوں اور مالی مشکلات کو شکست دے کر اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔



