اب ڈینگو سے ڈرنے کی ضرورت نہیں – ہندوستان میں پہلی بار ویکسین کو منظوری

حیدراباد – ملک میں عام ہونے والی بیماریوں میں ڈینگو بھی شامل ہے۔۔ ڈینگو کا شکار ہونے والے بعض افراد کی موت بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈینگو کے علاج پر بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ تاہم اب یہ مشکلات کم ہونے والی ہیں، کیونکہ ملک میں ڈینگو سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہوگئی ہے۔ جاپانی کمپنی کی تیار کردہ ڈینگو ویکسین کو مرکزی حکومت سے منظوری مل گئی ہے۔ اس کے بعد جلد ہی یہ ویکسین کھلے بازار میں دستیاب ہونے کا امکان ہے۔
جاپان کی بایوفارما کمپنی تاکیڈا نے ملک میں ’کیوڈینگا‘ (QDENGA) نامی ڈینگو ویکسین متعارف کرائی ہے۔ اسے ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (DCGI) نے منظوری دی ہے۔ بازار میں دستیاب ہونے والی اس ویکسین کو 4 سے 60 سال کی عمر کا کوئی بھی فرد لے سکتا ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ڈینگو ہوچکا ہے، وہ بھی یہ ویکسین لے سکتے ہیں اور جنہیں اب تک ڈینگو نہیں ہوا، وہ بھی اسے لے سکتے ہیں۔
اس وقت عالمی بازار میں ڈینگو کی کچھ ویکسین دستیاب ہیں، تاہم انہیں لینے سے پہلے پری ویکسینیشن اسکریننگ ٹیسٹ کرانا ضروری ہوتا ہے۔ ٹیسٹ میں کامیاب ہونے کے بعد ہی ویکسین دی جاتی ہے۔ لیکن جاپانی کمپنی کی تیار کردہ کیوڈینگا ویکسین کے لئے ایسے کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص یہ ویکسین لے سکتا ہے۔
یہ ویکسین دو خوراکوں میں دی جائے گی۔ ہر بار 0.5 ایم ایل کا انجیکشن لگایا جائے گا۔ پہلی خوراک کے تین ماہ بعد دوسری خوراک دی جائے گی۔ یہ ویکسین ملک میں زیادہ پھیلنے والے ڈینگو وائرس کی چار اقسام سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
یہ ویکسین اب کئی ممالک میں دستیاب ہے۔ اس کے لیے 19 مراحل کے ٹرائل مکمل کئے گئے ہیں، جن میں فیز 1، 2 اور 3 کے کلینیکل ٹرائلز بھی شامل ہیں۔ ان ٹرائلز میں 28 ہزار افراد نے حصہ لیا۔ ہندوستان سمیت کئی ممالک میں ویکسین کی کارکردگی، تحفظ اور مضر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعات کے مطابق یہ ویکسین گزشتہ سات برس سے ڈینگو کے خلاف تحفظ فراہم کررہی ہے۔
یہ ویکسین 2022 میں بازار میں آئی تھی اور اب 43 ممالک میں استعمال کی جارہی ہے۔ اب تک اس کی 3.2 کروڑ خوراکیں دی جاچکی ہیں۔
ہندوستان میں اس ویکسین کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ ملک میں ڈینگو کی شدت کافی زیادہ ہے۔ مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی یہ بیماری بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو سنگین نقصان کا خدشہ رہتا ہے۔ ایسے میں اگر یہ ویکسین مکمل طور پر دستیاب ہوجاتی ہے تو ڈینگو کے مریضوں کی تعداد میں کمی آنے کی امید ہے۔




