اردو کی محفلوں اورمشاعروں سے نوجوان نسل کو جوڑا جائے -ادیبوں اور شعرا کی خدمات قابل قدر
محفل "عصرانہ" سےقاضی زین العابدین 'تقی الدین شجیع' پروفیسر مسعود احمد اور محمد منور حسین کا خطاب

حیدرآباد9- اگست (اردو لیکس) قاضی زین العابدین ریٹائرڈ جوائنٹ کمشنر شوگر کین ڈپارٹمنٹ آندھرا پردیش (متحدہ) نے کہا کہ اردو زبان کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لیے ادبی محفلیں اور مشاعرے بہت ہی مفید ہیں آج کے اس گہما گہمی اور ہنگامی مصروفیات کے دوران وقت نکال کر اردو کی محفلیں سجانا اور ان میں شرکت کرنا بہت ہی اہم بات ہے
قابل تحسین ہیں وہ لوگ جو اردو زبان و ادب کے لیے اپنی اپنی سطح پر ہر ممکن خدمات انجام دے رہے ہیں اور اب اس وقت ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ان اردو محفلوں سے نوجوان نسل کو جوڑا جائے اور ان میں اردو زبان سے زیادہ سے زیادہ محبت پیدا کی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد ملک پیٹ حیدرآباد میں پروفیسر محمد مسعود احمد کی جانب سے اہتمام کردہ ہفتہ واری محفل عصرانہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ موبائل فون کے بڑھتے ہوئے اس دور میں جو لوگ اردو کے نام پر جمع ہو رہے ہیں
وہ قابل مبارک باد ہے انہوں نے اس سلسلے میں پروفیسر مسعود احمد کی کوششوں و کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا جناب تقی الدین شجیع رکن نمائش سوسائٹی نے کہا کہ اردو زبان سے متعلق ہمیں مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اردو زبان بہت زیادہ پھلتی پھولتی جا رہی ہے یہ صرف کسی ایک خطہ یا ملک کی حد تک محدود نہیں بلکہ عالمی طور پر اسے مقبولیت حاصل ہے اور مغربی ممالک میں بھی اس زبان کے جاننے والے ‘بولنے والے ‘لکھنے اور پڑھنے والے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں
انہوں نے اردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں شعرا برادری کی کاوشوں کی بیحد ستائش کی اور کہا کہ پروفیسر مسعود احمد محفل عصرانہ کے ذریعے ہر منگل کو ایوان احمد میں ایک تقریب منعقد کرتے ہوئے اردو کو آگے بڑھانے میں اہم رول انجام دے رہے ہیں اس محفل کی کاروائی سنجیدہ و مزاحیہ ممتاز و معروف شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے چلائی اور اپنے مزاحیہ کلام سے محفل کو خوب محظوظ کیا داعی محفل پروفیسر محمد مسعود احمد نے کہا کہ محفل عصرانہ کےانعقاد کا مقصد شعرا برادری کو ہر ہفتہ اپنے کلام پیش کرنے کا موقع دینا اور اردو والوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے
انہوں نے کہا کہ اب تک محفل عصرانہ کے ذریعے 100 سے زائد شعراء کو یہاں پر کلام سنانے کا موقع ملا ہے ہر مہینے کے آخری منگل کو ایک محفل خواتین کے لیے بھی مختص کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اردو زبان ادب کے فروغ کے لیے جتنی بھی کوششیں ان کی ہو سکتی ہیں وہ ضرور کرنے کے لیے تیار ہیں اور عملی طور پر کر بھی رہے ہیں جناب محمد منور حسین بانی بزم حسین نے کہا کہ ایوان احمد کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے علاقے ہاشم آباد میں بھی ایوان احمد کا ایک اورمرکز قائم کیا جا رہا ہے بہت جلد ہاشم آباد علاقے میں بھی ہر ماہ شاعروں’ ادیبوں’ مفکرین ‘دانشوروں اور دیگر معززین کے ساتھ نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا
ممتاز معروف سنجیدہ اور مزاحیہ شاعر جناب نجیب احمد نجیب نے پروفیسر مسعود احمد کے فن اور شخصیت پر ڈاکٹر عمر بن حسن نامور نقادکا لکھا ہوا ایک مضمون سنایا جسے بیحد پسند کیا گیاجناب جہانگیر قیاس نے تیراکی کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد دی ممتاز مزاحیہ سنجیدہ و نعتیہ شاعرجناب سید فرید احمد المعروف فرید سحر نے محفل عصرانہ کی باقاعدگی سے اہتمام پر کہا کہ یہ محفل کا رنگ اور پیمانہ بالکل مختلف وجدا گانہ اور انفرادی اہمیت کا حامل ہے کمسن محمد ابوبکر خان متعلم ساتویں جماعت مدینہ ہائی اسکول حمایت نگر نے اپنی مختصر سی تقریر میں کہا کہ وہ بڑے ہو کر حیوانات کے علاج کے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں
پروفیسر مسعود نے ان کی اس خواہش پر استفسار کیا کہ آخر وہ امراض حیوانات کے ڈاکٹر کیوں بننا چاہتے ہیں تو محمد ابوبکر خان نے جواب دیا کہ انسانی علاج کے دواخانے تو بے شمار ہوتے ہیں لیکن بے زبان جانوروں کی خدمت کرنا بھی بہت بڑا اجر ہے انہوں نے کہا کہ جانوروں پرندوں سے ہمارا تعلق ہونا بیحد ضروری ہے مخدوم ایوارڈ یافتہ ممتاز و معروف عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ ہوا جناب جنید حسینی جنید کی نعت سے آغاز ہوا صدر مشاعرہ کے علاوہ پروفیسر محمد مسعود احمد، سید سعید احمد المعروف فرید سحر، لطیف الدین لطیف، نجیب احمد نجیب، جہانگیر قیاس، سہیل عظیم، ثنا اللہ انصاری وصفی، سلیمان صدیقی اعتبار، افتخارحسین، حفیظ راحیل نے کالام سنایاجناب محمد حسام الدین ریاض نے شکریہ ادا کیا
اس موقع پر جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندرآباد کوآپریٹو بینک’ جناب سید افتخارالین فہیم ‘ڈاکٹر محمد ناظم علی’ سید مجتبی عابدی اور دوسروں نے شرکت کی۔



