تلنگانہ

کیا تلنگانہ میں 40 لاکھ نام ووٹر لسٹ سے کٹ جائیں گے؟

حیدرآباد: اطلاعات کے مطابق ریاست میں فہرست رائے دہندگان پر جامع نظر ثانی کے تحت تقریباً 40 لاکھ ووٹروں کے نام "Uncollectable” (جن کے تصدیقی فارم واپس حاصل نہیں کیے جا سکے) کے زمرے میں رکھ کر انتخابی فہرست سے حذف کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

 

انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست بھر میں 100 فیصد اینیومریشن فارم تقسیم کر دیے گئے ہیں تاہم بعض فارم "Uncollectable” قرار دیے گئے کیونکہ انہیں واپس جمع کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق ایک بڑی سیاسی جماعت نے جمعرات کو الیکشن کمیشن کے سامنے اس معاملے پر سخت اعتراض درج کروایا۔

 

پارٹی نے سوال اٹھایا کہ جب فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل 3 اگست تک جاری رہنا ہے تو پھر ابھی سے ووٹروں کے نام "Uncollectable” کے نام پر کیسے حذف کیے جا رہے ہیں؟

 

حکام کے مطابق ریاست میں جملہ 3 کروڑ 38 لاکھ 26 ہزار 448 ووٹروں میں سے 2 کروڑ 59 لاکھ 50 ہزار 506 (76.72 فیصد) ووٹروں کے فارم جمعرات شام 6 بجے تک ڈیجیٹلائز کیے جا چکے تھے۔

 

دو ہفتے قبل الیکشن کمیشن کا ایک ڈیش بورڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ 13 لاکھ ووٹر غیر حاضر، منتقل اور فوت ہونے والوں زمرے میں "Uncollectable” کے طور پر درج ہیں۔ اب صرف دو ہفتوں میں یہ تعداد بڑھ کر 40 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

 

منچریال: 23٪
کریم نگر: 20٪
قطب اللہ پور: 21٪
اپّل: 28٪
سکندرآباد: 24٪
سکندرآباد کینٹونمنٹ: 22٪
ورنگل ویسٹ: 26٪

 

جبکہ دیگر کئی اسمبلی حلقوں میں بھی یہ شرح 10 سے 20 فیصد کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ مختلف وجوہات کی بنیاد پر ان ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

 

100 فیصد تقسیم کے دعوے پر سوالات
اگرچہ حکام کا دعویٰ ہے کہ 100 فیصد اینیومریشن فارم تقسیم کیے جا چکے ہیں لیکن بہت سے ووٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک فارم موصول ہی نہیں ہوئے۔سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ جو فارم تقسیم ہی نہیں ہوئے، انہیں بھی "Uncollectable” شمار کیا جا رہا ہے۔

 

قواعد کے مطابق اگر کسی ووٹر کا نام غیر حاضر، منتقل اور فوت ہونے والوں زمرے میں ڈال کر حذف کرنا ہو تو متعلقہ پولنگ بوتھ کے بوتھ لیول ایجنٹ (BLA) کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔الزام ہے کہ بعض مقامات پر بی ایل ایز پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے

 

کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ متعلقہ ووٹر دیے گئے پتے پر موجود نہیں ہیں۔ کئی جگہوں پر بی ایل ایز مکمل معلومات یا آگاہی کے بغیر ہی ASD فہرست پر دستخط کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button