جگتیال کے ڈاکٹر رمنا کا کارنامہ، سینکڑوں بچوں کے دل کا مفت علاج – چیف منسٹر نے کی ستائش

جدہ – ( عرفان محمد) تلنگانہ کے جگتیال کے این آر آئی ڈاکٹر رمنا نے انسانیت کی خدمت کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے بھی ڈاکٹر رمنا اور ان کی ٹیم کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔ ڈاکٹر رمنا نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں سینکڑوں بچوں کے دل کے مفت آپریشن کرکے انہیں نئی زندگی دی ہے۔
تلنگانہ کے جگتیال کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سنگراو پیٹ میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے ڈاکٹر رمنا نے برطانیہ میں ایک ممتاز پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ وہ یورپ میں بچوں کے دل کے امراض کے ماہر ڈاکٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے باوجود انہوں نے سماجی ذمہ داری کو فراموش نہیں کیا اور اپنی صلاحیتوں کو ضرورت مندوں کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔
ڈاکٹر رمنا ’ہیلنگ لٹل ہارٹس‘ نامی این جی او کے ذریعہ مختلف ممالک کے غریب اور ضرورت مند بچوں تک برطانیہ کے معیار کی طبی سہولتیں پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ہر سال تلنگانہ واپس آکر دل کے امراض میں مبتلا بچوں کا معائنہ کرتے ہیں اور ان کے مفت آپریشن کرتے ہیں۔
اپنی فلاحی سرگرمیوں کے لئے ڈاکٹر رمنا نے تجارتی خانگی ہاسپٹلس کے بجائے نمس کو مرکز بنایا ہے۔ رواں سال ڈاکٹر رمنا اور ان کی ٹیم نے پیدائشی طور پر دل کے امراض میں مبتلا 19 بچوں کے مفت آپریشن کئے۔ اس خدمت پر چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ڈاکٹر رمنا اور ان کی ٹیم کی خصوصی ستائش کی۔
ڈاکٹر رمنا اور ان کی ٹیم نے ہندوستان کے علاوہ افریقی، عرب اور لاطینی امریکی ممالک میں بھی کئی سو بچوں کا علاج کیا ہے۔ حال ہی میں مصر میں ڈاکٹر رمنا کی قیادت میں کئے گئے دل کے آپریشنوں نے مصری عوام میں بھی ان کے لیے محبت اور قدر و منزلت پیدا کی۔
ڈاکٹر رمنا کے بھائی روی بھی امریکہ میں تلنگانہ تحریک کے اہم چہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ تقریباً دو دہائیاں قبل انہوں نے امریکہ میں علحدہ تلنگانہ تحریک کی آواز بلند کی تھی۔ تلنگانہ تحریک کے ابتدائی دور میں بیرون ملک علحدہ ریاست کے مطالبے کو مضبوطی سے پیش کرنے والے دو اہم تلنگانہ شخصیات میں روی اور جرمنی میں مقیم ڈاکٹر سی ایچ رمیش شامل تھے۔ ڈاکٹر رمیش بعد میں ویمولاواڑہ اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔
آج کے دور میں بہت سے لوگ روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں دوسرے شہروں اور ممالک میں آباد ہوجاتے ہیں اور اپنے آبائی علاقوں کو بھول جاتے ہیں، لیکن جو لوگ اپنی مادرِ وطن کو یاد رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں اور دولت کے ذریعہ سماج کا قرض چکاتے ہیں، ڈاکٹر رمنا جیسے افراد واقعی قابلِ تعریف اور دوسروں کے لئے قابلِ تقلید مثال ہیں۔




