نصف آبادی کے بغیر وکست بھارت ممکن نہیں حیدرآباد میں خواتین کی بین الاقوامی کانفرنس سے ماہرین کا خطاب

حیدرآباد۔ 14 ستمبر (پریس نوٹ) ملک کی نصف آبادی سے استفادہ نہ کرتے ہوئے وکست بھارت کا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ خواتین کو زندگی کے ہر شعبہ میں آگے آنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف تلنگانہ چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ 2017-18ء میں خواتین کی ورک فورس کی شراکت ہندوستان میں 23.3فیصد تھی جو 2023-24ء میں بڑھ کر 41.7فیصد ہوگئی ہے۔ خواتین کو با اختیار بنانے کے موضوع پر یہ کانفرنس سائبر گارڈن ہائی ٹیک سٹی میں ہوئی جس میں پالیسی سازوں، انٹر پرینرس، انڈسٹری لیڈرس، سرمایہ کاروں، ماہرین تعلیم اور دیگر نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکا نے معاشی ترقی کو تیز رفتار بنانے میں خواتین کے کردار پر بات چیت کی۔
صدر ویمن امپاورمنٹ کمیٹی ایف ٹی سی سی آئی ڈاکٹر تسنیم شریف نے کہا کہ ورک فورس میں شرکت حوصلہ افزا ہے لیکن یہ شرکت محض شروعات ہے۔ اگر ہندوستان کو اپنے ترقیاتی مقاصد حاصل کرنے ہیں تو خواتین کو محض ملازمتوں سے آگے بڑھنا چاہئے اور بورڈ رومس، بزنس، سرمایہ کاری کے فیصلوں، برآمدات اور معاشی لیڈر شپ میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ نصف انسانی سرمایہ سے عدم استفادہ کے ساتھ وکست بھارت ممکن نہیں ہے۔ خواتین کو ملازمتوں سے آگے بڑھ کر بورڈ رومس، بزنسس، انوسٹمنٹ فیصلوں برآمدات اور معاشی لیڈر شپ میں لانا اگلی چھلانگ ہونی چاہئے۔ جوائنٹ ڈائرکٹر ایم ایس ایم ای ڈیولپمنٹ سی ایس ایس راو نے کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانا، معاشی ترقی کو تقویت پہنچانے کے لئے کافی اہم ہے۔ انہوں نے خاتون انٹر پرینورس سے کہا کہ وہ ڈجیٹل آلات کا استعمال کریں۔ ای کامرس کے امکانات کھوجیں اور اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنائیں۔
سینئر اداکارہ انٹر پرینور املا اکینینی نے کہا کہ امپاورمنٹ اس وقت شروع ہوتا ہے جب خواتین اپنے فیصلوں اور نظریات پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے خواتین سے کہا کہ وہ چھوٹی شروعات سے خوفزدہ نہ ہوں۔ اگزیکٹیو ڈائرکٹر گرانیوس انڈیا اوما دیوی، ایف ٹی سی سی آئی کے صدر کے کے مہیشوری نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر ندا فاطمہ ہزاری نے کارروائی چلائی۔
دن بھر جاری اس کانفرنس میں 15 مقررین نے خطاب کیا جن کا تعلق حکومتی اداروں، انڈسٹری، انٹرپرینورشپ، ٹکنالوجی، فینانس اور دیگر شعبوں سے تھا۔




