جنرل نیوز

جماعت اسلامی ملک پیٹ کے زیراہتمام جلسہ سیرت النبی ؐ سے علمائے کرام کے خطابات  

اسوہ حسنہ کی روشنی میں صالح تبدیلی کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت

جماعت اسلامی ملک پیٹ کے زیراہتمام جلسہ سیرت النبی ؐ سے علمائے کرام کے خطابات  

حیدرآباد ۔ 14؍ ستمبر (راست )جناب محمد اظہر الدین صاحب امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند، تلنگانہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی ہر دور کے انسان کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت زندگی کے کسی ایک شعبے تک محدود نہیں، بلکہ عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت، تعلیم، قیادت اور دعوت سمیت تمام شعبہ ہائے حیات میں ہمارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔رسول اللہ ﷺ بچپن ہی سے شرم و حیا، پاکیزگی اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر تھے۔ جوانی میں بھی آپ ﷺ کی شخصیت پاکیزگی، امانت، صداقت اور کردار کی بلندی کا نمونہ رہی۔

 

نبوت سے پہلے ہی اہلِ مکہ آپ ﷺ کو صادق و امین کے لقب سے جانتے تھے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک نوجوان کی اصل پہچان صرف اس کی صلاحیت نہیں بلکہ اس کا پاکیزہ کردار اور مضبوط اخلاق بھی ہے۔جناب محمد اظہر الدین جماعت اسلامی ہند ، ملک کے زیراہتمام مسجد اجالے شاہ سعیدآباد میں منعقدہ جلسہ سیرت النبی ؐ سے صدارتتی خطاب کررہے تھے

 

۔ انہوں نے موجودہ معاشرے کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج نوجوان نسل مختلف ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور غیر اسلامی تہذیبی اثرات کے نتیجے میں رفتہ رفتہ بے حیائی، غیر ضروری نمائش، فضول مشاغل اور غیر اسلامی طرزِ زندگی کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔

 

دوسروں کی اندھی نقالی کو ترقی سمجھنا درست نہیں۔ مسلمان نوجوان کے لیے اصل معیار رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور اسلامی تعلیمات ہونےچاہئیں۔امیر حلقہ نے کہا ’’محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ آپ ﷺ کی اتباع ہے۔ قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کو اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ اس لیے اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور تعلیمات کو اپنے لائف اسٹائل میں ، اپنے لباس، گفتگو، معاملات، تعلیم، دوستوں کے انتخاب، وقت کے استعمال اور معاشرتی کردار میں بھی اختیار کرنا ہوگا۔

 

انہوں نے بامقصد زندگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ زندگی صرف تعلیم، ملازمت، کاروبار اور ذاتی کامیابی کا نام نہیں۔ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی، اپنی اصلاح، علم کا حصول، اپنے معاشرے کی خدمت اور حق و خیر کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک قیمتی نعمت اور ذمہ داری ہے، اسے بے مقصد مشاغل میں ضائع نہیں کرنا چاہیے

 

۔جناب محمد اظہر الدین صاحب نے سیرتِ نبوی ﷺ کے دعوتی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی جدوجہد کا بنیادی مقصد اللہ کے کلمے کو بلند کرنا اور انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے سخت ترین حالات میں بھی حق کا پیغام پہنچانے، انسانوں کی اصلاح اور معاشرے کو ظلم و جاہلیت سے نکالنے کی جدوجہد جاری رکھیں۔ آج ہم اپنے دائرۂ کار میں خیر، عدل، سچائی اور دین کی خدمت کے لیے مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف مسائل کا شکوہ کرنے کے بجائے مسائل کا حل بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تعلیمی اداروں، خاندان، محلے اور معاشرے میں اچھے اخلاق، خدمت، تعاون، سچائی اور دینی شعور کو فروغ دینا چاہیے۔

 

ایک مسلمان نوجوان اپنے عمل کے ذریعے دوسروں کے لیے دعوت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔جناب اظہر الدین صاحب نے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد سے اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کی تربیت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ نوجوانوں کو صرف نصیحت کرنے کے بجائے ان کے ساتھ دوستانہ اور حکیمانہ انداز میں گفتگو کی جائے، ان کے سوالات سنے جائیں، ان کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دی جائے اور انہیں سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے نوجوان اگر اپنی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کو اپنا حقیقی آئیڈیل بنا لیں تو وہ بے مقصدیت، بے حیائی اور فکری انتشار سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

 

سیرتِ رسول ﷺ انہیں پاکیزگی بھی عطا کرتی ہے، مقصد بھی دیتی ہے، کردار بھی بناتی ہے اور معاشرے کے لیے مفید انسان بننے کا راستہ بھی دکھاتی ہے۔آخر میں امیر حلقہ نے توجہ دلائی کی کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کرتے ہوئے علم، عبادت، حیا، اعلیٰ اخلاق، خدمتِ خلق اور دعوتِ دین کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس عزم کے ساتھ آگے بڑھیں کہ ہماری زندگی، ہماری صلاحیتیں اور ہمارا کردار اللہ تعالیٰ کے کلمے کی سربلندی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال ہوگا۔سیرتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے منعقدہ پروگرام میں علماء کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے مختلف گوشوں پر خطاب کیا اور حاضرین کو سیرتِ نبوی ﷺ کو عملی زندگی میں اپنانے کی ترغیب دی

 

۔جناب غیاث احمد شادی صاحب نے خدمتِ خلق اور اسوۂ رسول کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی انسانیت کی خدمت، ہمدردی اور خیر خواہی کا بہترین نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کی خدمت کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھیں اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں خدمتِ خلق کا جذبہ عام کریں۔’’سیرتِ رسول ﷺ اور نوجوان: کردار سازی سے قیادت تک‘‘ کے موضوع پر برادر فراز احمد، صدر ایس آئی او تلنگانہ، نےخطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کی کردار سازی اور ان کی صحیح تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

 

انہوں نے کہا کہ سیرتِ رسول ﷺ نوجوانوں کو مقصدِ زندگی، اعلیٰ کردار، ذمہ داری اور قیادت کا شعور عطا کرتی ہے، اور باکردار نوجوان ہی معاشرے کی مؤثر قیادت کر سکتے ہیں۔ مولانا عبدالجلیل صاحب، خطیب مسجد پلٹن، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روزمرہ زندگی اور معمولاتِ مبارکہ پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی یاد، عبادت، لوگوں کی خیر خواہی اور امت کی اصلاح میں گزرتا تھا،

 

اس لیے مسلمانوں کو اپنے شب و روز کو سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔مولانا احمد قاسمی صاحب، خطیب مسجد قباءفرح کالونی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی جدوجہد اور اس کے مختلف مراحل پر تفصیلی گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے حکمت، صبر، استقامت اور حسنِ اخلاق کے ذریعے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا، موجودہ دور کے داعیوں کو بھی انہی اصولوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ مولانا مصدق القاسمی صاحب، صدر جمعیت العلماء حیدرآباد، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بحیثیتِ معلم و مربی خدمات پر خطاب کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے صرف تعلیم نہیں دی بلکہ صحابہؓ کی بہترین تربیت کرکے انہیں ایسا باکردار انسان بنایا جو آگے چل کر پوری دنیا کے لیے رہنما ثابت ہوئے، اس لیے تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی خصوصی اہمیت دینی چاہیے۔جناب سیدمحمد عبدالقادر ناصر رکن مقامی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند ، ملک پیٹ نے کارروائی چلائی ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button