جنرل نیوز

ڈاکٹر مسعود جعفری کے شعری مجموعہ پیج و خم کی تقریب رسم اجرائی و مشاعر

ڈاکٹر مسعود جعفری کے شعری مجموعہ پیج و خم کی تقریب رسم اجرائی و مشاعر

پروفیسر ایس اے شکور پروفیسر شوکت حیات فاروق شکیل ،فاروق عارفی کی شرکت*

حیدرآباد میں بھیگی بھیگی شام میں میڈیا پلس کے خوبصورت حال میں ڈاکٹر مسعود جعفری کے شعری مجموعہ پیچ و خم کی رسم اجرائی پروفیسر ایس اے شکور کے ہاتھوں عمل میں آئی اس خوبصورت موقع پر پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ مسعود جعفری کی علمی شخصیت نے اردو زبان کو با ثروت ہی نہیں اپنے معنی خیز دل کو چھو لینے والی غزلوں سے مالا مال کر دیا پروفیسر شوکت حیات نے مسعود جعفری کی شخصیت کے گوناگوں پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ان کی شعری تخلیقات کو سراہا ڈاکٹر آمنہ بیگم اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ نے اپنی تقریر میں مسعود جعفری کی شخصیت اور شاعری کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا

 

ڈاکٹر فاروق شکیل اپنے اظہار خیال میں مسعود جعفری کے شعری مجموعہ کا خیر مقدم کیا اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسعود جعفری اسی طرح مسقبل میں بھی اپنے شعری تخلیقات سے اردو ادب کی آبیاری کرتے رہیں جناب قاضی فاروق عارفی نے مسعود جعفری کی کتاب اردو دنیا کے لیے ایک خوبصورت سوغات سے سے تعبیر کیا ناظم اجلاس ڈاکٹر جاوید کمال نے بڑی ہی خندہ پیشانی سے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ مسعود جعفری کے شعری سفر میں خوبصورت ادبی شاعرانہ نشیب و فراز آتے ہیں انہوں نے امید وابستہ کی کہ اسی طرح کے شعری تخلیقات منظر عام پر آئیں گے

 

ادبی اجلاس کے بعد ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا حیدرآباد کے نامور شاعر لطیف الدین لطیف نے خوش اسلوبی سے نظامت کے فرائض انجام دئے بلکہ اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اس مشاعرہ میں مہمانان خصوصی قاضی فاروق عارفی، فرید سحر،وحید گلشن ورنگل، شہناز رحمت کولکتہ کے علاوہ ارجمند بانو،صبیحہ تبسم، آرزو مہک افتخار عابد نے کلام سنایا اس موقع پر اضلاع سے صحافیوں محمد ظہیر الدین عظیم اعتماد،محمد رفعت،راشد عالم،عمران کے علاوہ اور دوسرے بھی موجود تھے

 

جگمگاتی درخشاں شعر ی محفل 10.30 بجے شب اختتام پذیر ہوئی کنوینرلطیف الدین لطیف کے شکرپر اس یادگار ادبی اجلاس و مشاعرہ کی خوبصورت یادیں لے کر شائقین اردو اپنے آشیانوں کی طرف رواں دوانںہوئے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button