نیشنل

مدرسے غیر اعلانیہ طور پر دہشت گرد پیدا کرنے کی فیکٹریاں۔ ڈپٹی چیف منسٹر اترپردیش کی اشتعال انگیزی

نئی دہلی: اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے مدرسوں سے متعلق ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ "چاہے مدرسہ بنگلہ دیش، پاکستان یا بھارت کا ہو، حقیقت میں مدرسے غیر اعلانیہ طور پر دہشت گرد پیدا کرنے کی فیکٹریاں ہیں۔”

 

یہ بیان انہوں نے بنگلہ دیشی گستاخ مصنفہ تسلیمہ نسرین کے اس تبصرے پر ردِعمل دیتے ہوئے دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بعض مدرسے شدت پسند نظریات کو فروغ دیتے ہیں اور "جہادی پیدا کرنے کی فیکٹریاں” بن چکے ہیں۔

 

تسلیمہ نسرین نے کولکتہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا کہ کئی مدرسے مؤثر سرکاری نگرانی کے بغیر چل رہے ہیں اور بعض اداروں میں غیر مسلموں کے خلاف نفرت انگیز خیالات سکھائے جاتے ہیں۔

 

اس کا کہنا تھا کہ کچھ مدرسوں میں بچوں کے استحصال اور خواتین کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں اس لیے موجودہ مدرسہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف سزا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ تعلیمی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

 

اس کے مطابق حکومتیں ووٹ بینک کی سیاست کے باعث مذہبی انتہا پسند عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتیں جس کی وجہ سے بعض اداروں میں شدت پسندی کو فروغ ملتا ہے۔

 

اس نے مطالبہ کیا کہ تمام مدرسوں کو مؤثر سرکاری نگرانی میں لایا جائے اور تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button