اغوا کے کیس میں وائی ایس آر کانگریس کے سابق رکن اسمبلی شیخ محمد مصطفیٰ گرفتار

گنٹور: اغوا کے ایک مقدمہ میں آندھرپردیش کے گنٹور ایسٹ کے سابق رکن اسمبلی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے لیڈر شیخ محمد مصطفیٰ کو نوزیوڈو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے سابق ایم ایل اے اور ان کے بیٹے بشیر کے خلاف اغوا، دھمکی دینے اور ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے ہیں۔
پولیس کے مطابق، گنٹور میں مصطفیٰ کا تمباکو کا گودام ہے۔ ایلورو ضلع کے کویالہ گوڈیم سے تعلق رکھنے والے تاجر سوریہ چندرم کسانوں سے تمباکو خرید کر مصطفیٰ کو فروخت کرتے تھے۔ تاہم حال ہی میں تمباکو کی قیمتیں کم کئے جانے پر سوریہ چندرم نے نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے مصطفیٰ کو تمباکو فروخت کرنا بند کر دیا اور دوسری کمپنی کو فروخت کرنا شروع کر دیا۔
پیر کی رات سوریہ چندرم کا بیٹا ابھی، ڈرائیور بالاراجو اور ملازم درگا راؤ کے ساتھ تمباکو کی گانٹھیں لے کر گنٹور جا رہا تھا۔ اسی دوران ابھی نے اپنے والد کو فون کر کے روتے ہوئے بتایا کہ سابق ایم ایل اے کے بیٹے بشیر اور اس کے ساتھیوں نے نوزیوڈو میں دو کاروں کے ذریعہ ان کی گاڑی کو روک لیا، تمباکو سمیت ویان پر قبضہ کر لیا اور انہیں اغوا کر لیا ہے۔ اس نے بتایا کہ ملزمین کا کہنا ہے کہ جب تک بقایا رقم ادا نہیں کی جاتی انہیں رہا نہیں کیا جائے گا۔
اس اطلاع پر سوریہ چندرم نے سابق ایم ایل اے مصطفیٰ سے رابطہ کیا تو مبینہ طور پر انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر فوری طور پر گنٹور کے تمباکو گودام پر آ کر رقم ادا نہ کی تو ان کا بیٹا واپس نہیں ملے گا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی نوزیوڈو پولیس نے گنٹور ضلع کے پیدکاکانی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا، کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ مغویوں کو وہیں رکھا گیا ہے۔ پولیس نے مصطفیٰ کو فون کر کے واضح کیا کہ اگر رقم کا کوئی تنازعہ ہے تو اسے قانونی طریقہ سے حل کیا جائے، اغوا ناقابل قبول ہے، اور تمام افراد کو فوری طور پر پولیس کے سامنے پیش کیا جائے۔
منگل کی علی الصبح اغوا میں ملوث افراد مغویوں کو ساتھ لے کر پیدکاکانی پولیس اسٹیشن پہنچے اور خودسپردگی کر دی، تاہم سابق ایم ایل اے شیخ محمد مصطفیٰ اور ان کا بیٹا بشیر اس وقت فرار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں نوزیوڈو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سابق ایم ایل اے کو گجرات سے گرفتار کر لیا۔



