محفلِ سماع اولیاء کرام کی روحانی روایت ہے، حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی تعلیمات میں اس کی وضاحت موجود

محفلِ سماع اولیاء کرام کی روحانی روایت ہے، حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی تعلیمات میں اس کی وضاحت موجود
جلسہء عظمت اولیاءاللہ سے مولانا کاشف پاشاہ ، مولانا عبدالرزاق نقشبندی اور مولانا محسن پاشاہ نقشبندی کے خطابات
حیدرآباد – 4 / اگست ( پریس نوٹ ) نبیرہء حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز عاشق شاہ باز بلند پروازؒ حضرت سید شاہ یوسف محمد محمد الحسینی قبلہ المعروف بہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینی رحمہ اللہ کے سالانہ عرس شریف کے موقعہ پر عظیم الشان پیمانہ پر کل رآت یسین فنکشن ہال ، جہاں نماں روڈ حیدرآباد میں سالانہ عظیم الشان پیمانہ پر فاتحہ ، جلسہء عظمت اولیاء اللہ اور محفل سماع سے ممتاز علماء کرام نے خطاب کیا
بابرکت محفل کی سرپرستی رہبر شریعت پیر طریقت تقدس مآب حضرت مولانا سیدشاہ مظہر محمد محمد الحسینی قبلہ چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل نے فرمائی جبکہ نگرانی حضرت مولانا سید شاہ رحمت محمد محمد الحسینی قبلہ المعروف بہ رحمت بابا بندہ نوازی چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل نے کی – جلسہ کا آغاز مولانا الحاج قاری محمد اسداللہ شریف نقشبندی کی قراءت کلام پاک اور مولانا صوفی قاری محمد فرحت اللہ شریف قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ کی نعت شریف سے ہوا
– جلسہ سے حضرت مولانا حافظ سید شاہ کلیم اللہ محمد محمد الحسینی کاشف پاشاہ بندہ نوازی سجادہ نشین ویچرانی شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ نے اپنی شہرۂ آفاق تصانیف میں محفلِ سماع کی حقیقت اور اس کے آداب کو بیان فرمایا ہے
۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ نے نقل فرمایا کہ سید الطائفہ حضرت سیدنا جنید بغدادیؒ بھی اہلِ معرفت کے ساتھ سماع میں شریک ہوتے تھے، کیونکہ جب سماع شریعت کے دائرے اور اخلاص کے ساتھ ہو تو وہ اہلِ دل کے لئے قربِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کا اہم ذریعہ بنتا ہے
۔ انہوں نے ایک معروف واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیدالطآئفہ حضرت جنید بغدادی کے دست حق پرست پر ایک مجوسی نے بذات خود متاثر ہوکر اسلام قبول کرتے ہوئے اہلِ سماع کے بارے میں کہا کہ یہ لوگ عشقِ حقیقی کے ذریعے مخلوق کو خالق سے ملانے کا وسیلہ بنتے ہیں
۔امیرِ امارتِ امتِ اسلامیہ حضرت مولانا قاضی الحاج محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری چشتی مداری سہروردی جامع السلاسل نے عظمتِ اولیائے کرام پر پرمغز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی سیرت و تعلیمات امت کے لئے ہمیشہ ہدایت کا چراغ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام نے ہمیشہ محبت ، اخلاص ، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا درس عظیم دیا اور انہی تعلیمات پر عمل کرنے میں دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے ۔
بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ ضلع محبوب نگر نے اولاد امجاد حضرت سیدنا خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ حضرت سید شاہ یوسف محمد محمد الحسینی المعروف شاہ راجو قتال حسینی کی حیاتِ مبارکہ ، علمی ، روحانی اور اصلاحی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت شاہ راجو قتال حسینیؒ نے دکن میں دینِ اسلام ، تصوف ، اخلاق اور انسانیت کی خدمت کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی اصلاح فرمائی
۔ انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات محبت ، رواداری ، اخوت اور امن کا پیغام دیتی ہیں ، جنہیں عام کرنے کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ۔ مولانا نے یہ بھی کہاکہ آپؒ کی ولادت دکن میں ہوئی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے بزرگوں کی نگرانی میں مکمل فرمائی ، پھر علوم قرآن حکیم ، حدیث ، فقہ ، تصوف اور معرفت میں اعلیٰ درجہ کا کمال حاصل فرمایا ، آپؒ عبادات و ریاضات ، زہد و تقویٰ ،اخلاص و للہیت اور عشق رسول صل اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم آپؒ کی زندگی کا نمایاں وصف تھا –
حضرت شاہ راجو قتال حسینیؒ نے دین اسلام کی اشاعت ، اصلاح معاشرہ اخلاقی تربیت اور روحانی فیض رسانی میں نمایاں خدمات سولہویں صدی کے اختتام میں انجام دیں – اس وقت کے حکمرانوں سمیت عوام کی بڑی تعداد آپؒ سے عقیدت و محبت رکھتی تھی – مولانا نقشبندی نے یہ بھی کہاکہ آپؒ کی خانقاہ علم وعرفان اور رشد و ہدایت کا مرکز بنی جہاں ہزاروں افراد نے روحانی فیض حاصل کیا –
انہوں نے یہ بھی کہاکہ حضرت شاہ راجو قتال حسینیؒ کا وصال 17 ویں صدی میں ہوا ، مولانا نے کہاکہ قتال کا لقب آپ کو اس لئے ملا کہ آپؒ کی روحانی نگاہ اور دعوت حق و نفسانی خواہشات اور باطنی برائیوں کا قلع قُمع کرتی تھیں نہ کہ ظاہری جنگ وجدال اور قتال کے معنیٰ میں – مولانا سیدشاہ فرید محمد محمد الحسینی قبلہ المعروف بہ مسعود بابا نے انتظامات کی نگرانی فرمائی – حضرت سید شاہ رحمت بابا بندہ نوازی قبلہ نے علماء کرام مشائخ عظام کی گلپوشی و شال پوشی کی
– شہہ نشین پر مفسرقرآن حکیم مولانا محمد محی الدین قادری محمودی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و خازن کل ہند انجمن طلباء قدیم جامعہ نظامیہ ، مولانا ڈاکٹر خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ ، مولانا سید حبیب محمد بن مجتبیٰ العیدروس ، مولانا شیخ عمران پاشاہ جنیدی کُنج نشین ،مولانا قاضی عظمت اللہ جعفری ، مولانا الحاج سید حسن قادری خلیفہء مُجاز رئیس المفسرین علامہ سید شاہ طاہر رضوی قادریؒ ، مولانا منور علی طاہری قادری ، مولانا سید خواجہ حسین احمد رفاعی پاشاہ قادری چشتی ، مولانا سید درویش محی الدین قادری الموسوی مصطفی پاشاہ ، مولانا ڈاکٹر سید شاہ محمد پاشاہ قادری الموسوی ، مولانا سید شاہ خواجہ محمد محمد الحسینی قادری چشتی معشوقی طلحہ پاشاہ ، مولانا سید شاہ ولی اللہ محمد محمد الحسینی بندہ نوازی نصیر پاشاہ ، مولانا سید شاہ قادر محمد محمد الحسینی بندہ نوازی ، مولانا سید شاہ شجاعت اللہ محمد محمد الحسینی بندہ نوازی فرحان پاشاہ ، مولانا سید شاہ ندیم اللہ محمد محمد الحسینی ریحان پاشاہ ، مولاناسید شاہ غوث پاشاہ محمد محمد الحسینی ، مولانا میر مصطفیٰ علی عرفانی قادری چشتی ، مولانا شیخ شجاعت الدین حسین چشتی قادری مقیت پاشاہ ، مولانا سید نجم الدین قادری چشتی ، مولانا سید شاہ کمال پاشاہ قادری مشائخ بالاپور ، مولانا سید شاہ مظفر پاشاہ قادری مشائخ بالاپور ، مولانا حکیم محمد معزالدین ملتانی قادری ،مولانا ابوعبداللہ اسلم جاوید نقشبندی مجددی قادری ، مولانا سید شاہ اسماعیل پاشاہ قادری معصوم پاشاہ ، مولانا حافظ محمد خان غوری چشتی قادری نقشبندی سہروردی ، مولانا سید صادق علی شاہ قادری ، مولانا سید فصیح اللہ قادری ، مولانا برکت علی عمران خان قادری چشتی ، مولانا سید پاشاہ قادری چشتی ، مولانا سید ظہیر الدین چشتی قادری ، مولانا صوفی عبداللہ بن سالم بایمین چشتی قادری ، مولانا عامر بن عود بلیشورم چشتی قادری ، مولانا صوفی محمد علی الدین چشتی قادری نقشبندی مجددی ، مولانا حافظ صوفی محمد شاہ نواز ابوالعلائ قادری ، مولانا صوفی محمد اظہر الدین چشتی قادری ، جناب محمد شفیع قادری ودیگر سینکڑوں حضرات موجود تھے –
محفل کے اختتام پر امتِ مسلمہ کے اتحاد ، ملک میں امن و امان ، ترقی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعا کی گئی ۔



