جنرل نیوز

مذہب اسلام میں حسن اخلاق کو کافی اہمیت – یہودی مصنف کی کتاب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سر فہرست

ایوان احمد ملک پیٹ میں 15 ویں محفل "عصرانہ "-ڈاکٹر فاروق شکیل 'پروفیسر مسعود احمد اور منور حسین کاخطاب- شعرا نے کلام سنایا

حیدرآباد 24 ستمبر ( پریس نوٹ ) پروفیسر محمد مسعود احمد نے کہا کہ مذہب اسلام میں حسن اخلاق کو کافی اہمیت دی گئی ہے اخلاق سے ہی کسی بھی انسان کی سیرت کا پتہ چلتا ہے دور جدید میں عصری مدارس اور کالجس میں اخلاقی تعلیم کی کمی نے سماج کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے

 

مستقبل قریب میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نصابی کتابوں میں اخلاقیات کا ایک مضمون ہوا کرتا تھا سرکاری مدارس ہو یا پھر خانگی مدارس میں اخلاقیات کی تعلیم لازمی طور پر ہوا کرتی تھی اساتذہ کرام طلبہ کو اخلاقیات سے واقف کروایا کرتے تھے اس کے نتیجےمیں معاشرے پر بھی خوشگوار اثرات دکھائی دیتے تھے ایوان احمد ملک پیٹ میں ہفتہ واری15ویں محفل "عصرانہ” سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد مسعود احمد نےکہا کہ یہودی ‘امریکی ماہر فلکیات اور مورخ مائیکل ایچ ہارٹ نے

 

THE100-A ranking of the Most influential person in History

کتاب لکھی اور اس کتاب میں دنیا بھر کی سرکردہ وعظیم شخصیات میں سب سے پہلے نمبر پر اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو رکھا اس کتاب کے لکھنے کے بعد مائیکل ایچ ہارٹ جب لندن میں کسی ایک مقام پر لکچر دے رہا تھا تو وہاں کے لوگوں نے اس سے شکایت کی کہ اس کتاب میں اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اولین درجے پر کیوں رکھا ہے

 

جس پر مائیکل نے جواب دیا کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 61 میں مکہ کے وسط میں کھڑے ہو کر علی الاعلان کہا تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس وقت ان پر صرف چار لوگ ایمان لائے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام چاروں طرف پھیل گیا اور اب 1400 سال کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد دنیا بھر میں پھیل چکی ہے اور دنیا بھر میں اسلام تیزی سے پھیلنے والا عظیم الشان مذہب ہے اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جنہوں نے اسلام کی دعوت دی تھی وہ مذہب نہایت ہی سچا مذہب ہے

 

کیونکہ جھوٹ 1400 سال تک نہیں چلتا اور نہ ہی اتنے بڑے عرصے تک ہم دوسروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں یہ مذہب اسلام کا ہی و صف ہے کہ وہ ایک سچا مذہب ہے اور اسی بنا پر میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی لکھی ہوئی با اثر شخصیات والی کتاب میں سب سے پہلے نمبر پر رکھا ہے پروفیسر مسود احمد نے کہا کہ اسلام کے پھیلنے میں سب سے زیادہ جس بات کا اثر ہے وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان اخلاق ہیں بعدازاں مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت مخدوم ایوارڈیافتہ ممتاز معروف شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل نے کی اور کہا کہ ہماری زندگی میں اخلاق بڑی اہمیت کے حامل ہیں

 

ہماری گفتگو اخلاق کے دائرہ ہونی چاہیے نظامت ممتاز ومعروف مزاحیہ و سنجیدہ اور نعتیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے کی کنوینرمحفل اور صدر مشاعرہ ڈاکٹر فاروق شکیل کے علاوہ طاہر گلشن ابادی ‘سید فرید احمد المعروف فرید سحر’ محمد طاہر رومانی’ نجیب احمد نجیب لطیف’ الدین لطیف’ شکیل حیدر’ جہانگیر قیاس’ رفیق جگر’ ثنا اللہ انصاری وصفی ‘میر مقبول علی مقبول’ سید کوثر شمس آبادی’ ‘حامد رضوی ‘سید سہیل عظیم کے علاوہ جناب محمد عبدالرشید نے تلگو میں کلام سنایا اس موقع پر مہمان خصوصی

 

جناب منور حسین صدر بزم حسین نے بھی مخاطب کیاجناب فضل تمیمی ‘جناب صدیق حسین’ جناب محمد حسن الدین’ جناب سید شکیل ‘جناب محمد حسام الدین صدیقی’ جناب محمد معین ‘جناب شکیل وصی’ جناب محمد اسماعیل ‘جناب سید مجتبیٰ عابدی صدر اردو کونسل اور دیگر اصحاب موجود تھے

متعلقہ خبریں

Back to top button