تلنگانہ

22-A اراضی پر تلنگانہ حکومت کا بڑا فیصلہ، GHMC، DTCP اور HMDA کی منظوری والی زمینوں کی رجسٹریشن کی اجازت

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے 22-A کے تحت ممنوعہ اراضی کے معاملے میں اہم فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی زمین کو GHMC، DTCP یا HMDA کی منظوری حاصل ہے تو 22-A فہرست میں شامل ہونے کے باوجود اس کی رجسٹریشن کی جاسکتی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔

 

ریاست بھر میں گزشتہ ایک ماہ سے 22-A ممنوعہ اراضی کا معاملہ تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ عہدیداروں کی جانب سے رجسٹریشن روک دیے جانے سے زمین مالکان میں تشویش پیدا ہوگئی تھی۔

 

حکومت نے بتایا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق پہلے کے مقابلے میں 3.50 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کو نئی طور پر 22-A فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم، حکومت نے اعتراف کیا کہ اراضی کو فہرست میں شامل کرنے کے عمل کے دوران کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔ اس دوران ممنوعہ اراضی کے ساتھ بعض علاقوں میں نجی اراضی، کھلے پلاٹس اور رہائشی مکانات بھی 22-A فہرست میں شامل ہوگئے، جس کے نتیجے میں محکمہ رجسٹریشن نے ان کی رجسٹریشن روک دی۔

 

اس فیصلے کے خلاف زمین مالکان کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں نے بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ صورتحال کے پیش نظر حکومت نے عہدیداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔

 

حیدرآباد کے ایل بی نگر، کوکٹ پلی، میاں پور، شیرلنگم پلی اور قطب اللہ پور جیسے علاقوں میں بڑی تعداد میں رہائشی مکانات 22-A فہرست میں شامل ہوگئے تھے۔ ان علاقوں میں بیشتر مکانات حکومت کی باقاعدہ اجازت سے تعمیر کئے گئے ہیں۔ حکومت کے تازہ فیصلے سے ایسے مکانات اور اراضی مالکان کو بڑی راحت ملنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button