جرائم و حادثات

انسٹاگرام پر دوستی، 5 سال کی محبت؛ بات چیت کم ہوئی تو عاشق نے جان لے لی – بی ٹیک کامیاب شیخ حسینہ کا بہیمانہ قتل

حیدراباد – آندھرپردیش کے پالناڈو ضلع میں ایک نوجوان نے مبینہ طور پر اپنی محبوبہ کے بات چیت کم کرنے سے ناراض ہوکر انتہائی بے رحمی سے قتل کردیا۔

 

پولیس کے مطابق چِلکالوری پیٹ سے تعلق رکھنے والی شیخ حسینہ نے گنٹور ضلع کے مِٹّلاپلی کالج سے بی ٹیک کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اسی دوران کارمپوڈی منڈل کے اِنُپَراجوپلی سے تعلق رکھنے والے بالا سائیڈولو سے انسٹاگرام کے ذریعہ اس کی دوستی ہوئی، جو بعد میں محبت میں بدل گئی۔ دونوں گزشتہ پانچ سال سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔

 

بی ٹیک مکمل کرنے کے بعد حسینہ نے سُولورپیٹ کی ایک کمپنی میں ملازمت شروع کردی، جبکہ بالا سائیڈولو اپنے آبائی گاؤں واپس آکر کھیتی باڑی کرنے لگا۔ ملازمت شروع کرنے کے بعد حسینہ نے بالا سائیڈولو سے بات چیت کم کردی۔ اس پر وہ اس پر شک کرنے لگا اور اسے شبہ ہوا کہ وہ کسی اور شخص سے بات کر رہی ہے۔

 

پولیس کے مطابق اسی غصے میں بالا سائیڈولو نے حسینہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے حسینہ سے بات کرکے اسے سُولورپیٹ سے چِلکالوری پیٹ آنے کے لیے کہا۔ بعد میں اسے کارمپوڈی آنے پر آمادہ کیا اور وہاں ناگرجنا ساگر کنال کے کنارے ایک سنسان مقام پر لے گیا۔ الزام ہے کہ بالا سائیڈولو نے اپنے ساتھ لائی ہوئی چاقو سے حسینہ پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا۔ اس کے بعد شناخت اور شواہد مٹانے کے ارادے سے نعش پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی اور وہاں سے فرار ہوگیا۔

 

حسینہ گھر والوں سے یہ کہہ کر نکلی تھی کہ وہ کچھ دیر میں واپس آئے گی، لیکن واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے مقامی پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے تفتیش شروع کی تو کارمپوڈی منڈل میں ناگرجنا ساگر کنال کے کنارے ایک نامعلوم نعش ملنے کی اطلاع ملی۔

 

پولیس موقع پر پہنچی تو نعش کا کچھ حصہ جلا ہوا جبکہ باقی حصہ گلنے کی حالت میں تھا۔ پولیس نے نعش کی شناخت کے لئے ضروری کارروائی کی، جس کے بعد اس کی شناخت حسینہ کے طور پر ہوئی

 

۔ تفتیش کے دوران پولیس نے بالا سائیڈولو کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی۔ پولیس کے مطابق اس نے حسینہ کے قتل کا اعتراف کرلیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button