جنرل نیوز

ہماری نسلوں کو سیرت مصطفیٰؐ ، عشق رسولؐ ، ادب رسولؐ اور سنت رسولؐ سے وابستہ کرنا ناگزیر اسدالعلماء کا محبوب نگر میں ایمان افروز اور مدلل خطاب

محبوب نگر_27 / اگست ( پریس نوٹ ) مسجد سعد ، محلہ موتی نگر ، محبوب نگر میں منعقدہ روح پرور زیارت آثار شریفہ و تبرکات کثیرہ کی زیارت کے ضمن میں جلسہء میلادالنبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسد العلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع نے آثارِ مبارکؐ و تبرکاتِ کثیرہ کی شرعی و تاریخی اہمیت پر قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں مفصل اور مدلل خطاب کیا ۔

 

اس روحانی و بابرکت محفل کی نگرانی صدر کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ و صدر قاضی ضلع محبوب نگر حضرت قاضی سید شاہ غوث محی الدین قادری چشتی متولی حضرت پیراں شاہ صاحبؒ نے فرمائی ، جبکہ صدرِ مجلسِ انتظامی مسجد سعد جناب سید صدیق حسین معاون کارپوریٹر محبوب نگر میونسپل کارپوریشن نے انتظامات کی نگرانی فرمائی ۔مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نے اپنے سلسلہء خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آثارِ انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص آثارِ رسولِ اکرم ﷺ سے محبت و تعظیم امتِ مسلمہ کے دینی و روحانی سرمایہ کا حصہ ہے ۔ تاہم عقیدۂ اہلِ سنت وجماعت یہ ہے کہ حقیقی مؤثر اور نفع و ضرر کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے ؛ مقدس آثار میں جو بھی برکت ظاہر ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے ہی ہوتی ہے ۔

 

*قرآنِ حکیم میں آثار شریفہ سے تبرک کی اصل*

انہوں نے قرآنِ مجید کی سورۃ البقرۃ کی آیتِ کریمہ پیش کرتے ہوئے کہا:

﴿ وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ ﴾

ترجمہ: ’’اور ان کے نبیؑ نے ان سے کہا کہ اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ تابوت آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین ہے اور کچھ باقی ماندہ چیزیں ہیں جو موسیٰؑ اور ہارونؑ کی آل چھوڑ گئی ہے ، اسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔‘‘

 

مولانا نے کہا کہ اس آیتِ کریمہ میں حضرت سیدنا موسیٰ و حضرت سیدنا ہارون علیہما السلام سے منسوب متروکہ آثار پر مشتمل تابوتِ سکینہ کا ذکر موجود ہے ۔ اس سے کم از کم یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو وجہہ تخلیق کائنات بناکر مبعوث فرمایا ہے تو آپؐ کے آثارشریفہ و تبرکات کثیرہ غلامان محمدیؐ کے لئے بدرجہء اولی عظمت و تعظیم اور دونوں جہاں میں سرخرویء ونجات کا باعث ہے، انہوں نے یہ بھی کہاکہ اللہ جل مجدہُ اپنے مقبول بندوں سے منسوب آثار کو اپنی نشانی اور سکون کا ذریعہ بنا سکتا ہے ۔

 

*حجۃ الوداع، 10 ہجری میں موئے مبارک مصطفیٰ ﷺ کی تقسیم*

خطاب کے دوران مولانا نے خصوصی طور پر حجۃ الوداع کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ کا حج 10 ہجری میں ہوا ۔ اسی حج کے موقع پر منیٰ میں قربانی کے بعد سرِ اقدس کے زلف مبارک اور موئے مبارک منڈوائے گئے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ان مقدس آثار مبارکہ کو حاصل کیا ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح مسلم میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سرِ اقدس کے دائیں جانب کے ریش مبارکہ اتروائے اور انہیں اپنے قریب موجود صحابہء کرام میں تقسیم فرمایا، پھر بائیں جانب کے زلف مبارکہ بھی اتروائے اور حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائے ، اور ارشاد فرمایا:

 

«اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ»

یعنی: ’’اسے لوگوں میں تقسیم کردو۔‘‘

صحیح مسلم کی روایت میں یہ واقعہ واضح طور پر موجود ہے ، جبکہ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ ہی سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ نے سرِ اقدس کے ریش مبارک منڈوائے تو حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سب سے پہلے موئے مبارک لینے والوں میں شامل تھے ۔

مولانا نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے جسمِ اطہر سے منسوب آثار کو محض تاریخی یادگار نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں انتہائی ادب و محبت کے ساتھ محفوظ فرماتے اور ان سے تبرک حاصل کرتے تھے ۔

 

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور قلنسوۂ مبارک

مولانا نے حضرت سیف اللہ المسلول سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے پاس رسول اللہ ﷺ کے موئے مبارک میں سے بعض ریش مبارک موجود تھے ، جنہیں انہوں نے اپنی قلنسوہ ( عمامہ کے اندر پہنے جانے والی ٹوپی ) میں محفوظ کر رکھا تھا۔

جنگِ یرموک کے موقع پر ان کی قلنسوہ گم ہوگئی ۔ حضرت خالدؓ نے اسے تلاش کروانے پر خصوصی اصرار فرمایا ۔ جب وہ قلنسوہ مل گئی تو حضرت خالدؓ نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کے موقع پر سرِ اقدس کے زلف مبارک منڈوائے تھے ، لوگ موئے مبارک حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھے ، مگر حضرت خالدؓ نے ناصیۂ مبارک کے زلف مبارک حاصل کرکے انہیں اپنی قلنسوہ میں محفوظ کرلیا تھا اور فرمایا:

 

«فَلَمْ أَشْهَدْ قِتَالًا وَهِيَ مَعِي إِلَّا رُزِقْتُ النَّصْرَ»

یعنی: ’’میں نے جب بھی ایسی جنگ میں شرکت کی کہ یہ میرے ساتھ تھے تو مجھے نصرت عطا ہوئی۔‘‘

یہ واقعہ دلائل النبوۃ ، مستدرک حاکم وغیرہ میں منقول ہے ۔ اس روایت کے سندی پہلو میں محدثین نے کلام بھی کیا ہے؛ چنانچہ اسے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیث میں بھی موجود ہے ۔

مولانا نے مزید کہا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کا یہ طرزِ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور اکرم ﷺ کے آثارِ مبارکہ سے کس قدر بدرجہء اتم محبت اور بے پایاں عقیدت رکھتے تھے ۔

*نعلینِ مصطفیٰ ﷺ — محبت و تعظیم کا عظیم نشان*

مولانا نے نعلینِ مبارک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کی نعلین مبارکہ کے تذکرے ، ان کی ساخت اور صحابۂ کرام کے ذریعے ان کے محفوظ کئے جانے کے شواہد موجود ہیں ۔

 

صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی معروف روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی نعلینِ مبارک حضرت ابو ہریرہؓ کو عطا فرمائیں اور ایک خاص مقصد کے لئے انہیں لے جانے کا حکم دیا ۔ یہ حدیث اس امر کی واضح دلیل ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی نعلینِ مبارک صحابۂ کرام کے لئے قابلِ تعظیم اور قابلِ حفاظت آثار تھیں تاہم مولانا نے سامعین کو متنبہ کیا کہ نعلینِ مبارک کے پتھر پر پڑنے سے پتھر پر نشان مبارک ضرور پڑ گئے تھے کہ عشق و محبت کے باوجود حدیث و تاریخ بیان کرنے میں تحقیق ، احتیاط اور موجودہ دور میں امانت ضروری ہے ۔

 

*تبرک کا صحیح عقیدہ*

مولانا محمد محسن پاشاہ نقشبندی نے واضح کیا کہ اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک تبرک کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی مقدس چیز اللہ تعالیٰ سے مستقل طور پر بے نیاز ہوکر نفع پہنچاتی ہے ۔

بلکہ عقیدہ یہ ہے کہ:

’’اللہ جل مجدہ ہی حقیقی مؤثر ہے اور وہ اپنے محبوب بندوں اور ان سے منسوب مقدس آثار شریفہ و تبرکات کثیرہ کے ذریعے جسے چاہے برکت عطا فرماتا ہے۔‘‘

لہٰذا آثارِ شریفہ کی زیارت کے وقت انتہائ درجہ ادب ، محبت اور تعظیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی جائے ، اور کسی اثر کو مستقل بالذات مؤثر نہ سمجھا جائے ۔

 

*صحابۂ کرامؓ کی محبتِ رسول ﷺ*

مولانا نے یہ بھی کہا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ہمیں یہ سبق دیا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت صرف زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ زندگی کا عملی راستہ ہے ۔

وہ حضور اکرم ﷺ کے وضو کے پانی ، موئے مبارک ، پسینہ مبارکؐ ، زلف مصطفیٰؐ ، لباسِ مبارکؐ ، نعلینِ مبارکؐ اور دیگر آثار مبارکؐ کو نہایت محبت سے محفوظ رکھتے تھے ۔ یہ سب کچھ اس عظیم محبت کا مظہر تھا جو ان کے دلوں میں ذاتِ اقدس ﷺ کے لئے موجزن تھی ۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ، عشقِ رسول ﷺ ، ادبِ رسول ﷺ اور سنتِ رسول ﷺ سے وابستہ کرنا ہوگا ۔ آثارِ شریفہ کی زیارت کا سب سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ ہمارے دلوں میں حضور ﷺ کی محبت مزید بڑھے اور ہماری زندگی سنتِ نبوی ﷺ کے عین مطابق ہوجائے ۔

 

*میلادالنبی ﷺ بلڈ ڈونیشن کیمپ بھی منعقد*

اس موقع پر مسجد سعد میں ہر سال کی طرح اس سال بھی میلادالنبی ﷺ بلڈ ڈونیشن کیمپ کا اہتمام کیا گیا تھا ، جس کا مقصد بلالحاظ مذہب و ملت مجبور ، غریب ، نادار ، بے سہارا اور ضرورت مند مریضوں کے لئے مفت خون کی فراہمی میں تعاون کرنا تھا ۔

مشہور و معروف خانگی ہاسپٹل ایس وی ایس کے طبی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے بلڈ ڈونیشن کیمپ میں خدمات انجام دیں اور خون عطیہ کرنے والے درجنوں غلامانِ محمدی ﷺ سے خون حاصل کرکے اسے طبی اصولوں کے مطابق محفوظ کرلیا ۔

خون عطیہ کرنے والے رضا کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں سرٹیفکیٹس بھی پیش کئے گئے ۔

عیدالاعیاد میلادالنبی ﷺ کے موقع پر ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ساتھ خدمتِ انسانیت کا جذبہ پیدا کرنا ایک قابلِ قدر دینی و سماجی مستحسن اقدام ہے ۔ کسی ضرورت مند مریض کے لئے خون کا عطیہ بلا شبہ ایک عظیم انسانی خدمت ہے ۔

 

*عشقِ رسول ﷺ کو خدمتِ خلق سے جوڑنے کی ضرورت*

مولانا محمد محسن پاشاہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہمیں اپنے اجتماعات کو صرف رسمی پروگرام نہیں بنانا چاہیئے بلکہ انہیں ایمان کی تازگی ، روح میں بالیدگی ، محبتِ رسول ﷺ ، اتباعِ سنت ، اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنانا چاہیئے ۔

انہوں نے کہا کہ آثارِ مصطفیٰ ﷺ کی زیارت سے دلوں میں عشق رسول پیدا ہو ، عشق سے سنت پر عمل کا جذبہ پیدا ہو ، سنت سے اخلاق و کردار سنورے اور کردار کی خوبصورتی سے معاشرے میں محبت ، امن اور انسانیت کی خدمت عام ہو —یہی ایسے با برکت اجتماعات کا حقیقی مقصد ہونا چاہیئے ۔

آخر حضرت قاضی سید شاہ غوث محی الدین قادری چشتی نے اقطاع عالم کے مسلمانوں بالخصوص ملک و ملت ، امتِ محمدیہؐ ، محبوب نگر کی عوام ، بیماروں ، محتاجوں اور تمام خون عطیہ کرنے والے رضاکاروں کے لئے خصوصی دعائیں کی گئی ۔

شرکائے جلسہ نے آثارِ شریفہ و تبرکاتِ کثیرہ کی زیارت سے فیض حاصل کیا اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ ، محبتِ رسول ﷺ اور خدمتِ خلق کے اس حسین امتزاج کو غیر معمولی طور پر سراہا ۔

 

اس موقعہ پر جناب قاضی سید شاہ مجیب الدین قادری چشتی منتخب سجادہ نشین و متولی بارگاہ حضرت پیراں شاہ صاحبؒ ، مولانا حافظ الحاج محمد امتیاز الرحمٰن طاہری قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ ، جناب محمد خلیل بھائ غوثی چشتی قادری ، مولانا محمد عبدالمنان نقشبندی مجددی قادری مولوی عالم جامعہ نظامیہ امام مسجد صالح و دیگر سینکڑوں مرد و خواتین نے شرکت کرتے ہوئے زیارت کی – تناول تبرک کا خاص و عام نظم کیا گیا تھا –

متعلقہ خبریں

Back to top button