Uncategorized

حیدرآباد ۔ پولیس کمشنر حیدرآباد وی سی سجنار نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ علاج کے نام پر معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے نقلی ڈاکٹروں سے انتہائی محتاط رہیں۔انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ عوامی صحت کے تحفظ کے مقصد سے ملاوٹ شدہ غذائی اشیاءکے خلاف سخت کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ اب سٹی پولیس کی جانب سے نقلی ی ڈاکٹرس پر بھی خصوصی نظر رکھی جارہی ہے۔

 

اس کارروائی کے دوران 12 نقلی ڈاکٹرس کی شناخت کی گئی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی گئی ہے۔کمشنر پولیس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے پاس نہ مناسب طبی اہلیت ہے اور نہ ہی بنیادی طبی معلومات لیکن وہ خود کو حقیقی ڈاکٹرس کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لوگ اینٹی بایوٹکس، اسٹیرائڈس، بلڈ پریشر اور شوگر کی ادویات کے علاوہ من مانے طریقے سے انجکشن اور سیلائن بھی لگاتے ہیں۔

 

ان کے غیر ذمہ دارانہ علاج کی وجہ سے عوام کے پھیپھڑوں، قلب اور گردوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ نقلی ڈاکٹرس سے بچنے کے لیے کمشنر نے عوام کو مشورہ دیا کہ کلینک یا ہاسپٹل جاتے وقت چند اہم احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ہاسپٹل میں ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر)کی جانب سے جاری کردہ سرکاری رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ضرور چیک کریں۔ اسی طرح ڈاکٹروں کے بورڈ پر ٹی ایس ایم سی کی جانب سے دیا گیا رجسٹریشن نمبر موجود ہے یا نہیں یہ بھی لازمی طورپر دیکھیں۔

 

اگر کسی ڈاکٹر کی اہلیت پر ذرا بھی شک ہو تو سرکاری ویب سائٹ onlinetsmc.in پر اس کی تفصیلات کی تصدیق کریں۔ پولیس کمشنر سجنار نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی نقلی ڈاکٹر کے بارے میں معلومات ملیں تو فوراً 112 پر کال کریں یا قریبی پولیس اسٹیشن کو اطلاع دیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ کیا جاسکے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button