چوری کا نیا انداز، پہلے سیل فون چوری پھر چور کرتے ہیں فون، اس کے بعد اکاؤنٹ خالی

حیدرآباد ۔ جیب کترے اب ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نئے انداز میں ہائبرڈ سائبر فراڈ کے ذریعہ شہریوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کمشنر پولیس وی سی سجنار نے بتایا کہ یہ افراد موبائل فون چوری کرنے متاثرین کی رقم بھی اڑا لے رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں موبائل فون چوری کے ایک معاملے میں تین ملزمین کو گرفتار کرکے پانچ فون برآمد کیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ گروہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وارداتیں انجام دیتا ہے۔ وہ ریلوے اسٹیشنوں، بازاروں، میٹرو اسٹیشنوں، آر ٹی سی بسوں اور دیگر عوامی مقامات پر شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
یہ ٹولی وہاں وہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے بزرگوں اور سادہ لوح افراد کو تلاش کرتی ہے۔جب کوئی شخص فون استعمال یا یو پی آئی کے ذریعے لین دین کر رہا ہوتا ہے تو یہ لوگ اس کا پیٹرن، پن اور پاس ورڈ غور سے دیکھ لیتے ہیں پھر اس کا پیچھا کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی جیب یا بیاگ سے موبائل فون چوری کر لیتے ہیں۔
اگر فون لاک ہونے کی وجہ سے اسے فوراً کھول نہ سکیں یا پاس ورڈ معلوم نہ ہو تو یہ ایک نیا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ فون پر کال آنے پر جواب دے کر خود کو بس کنڈکٹر یا ڈرائیور ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فون بس میں ملا ہے۔ تفصیلات کی تصدیق کے نام پر متاثرہ شخص سے اس کا اسکرین لاک پاس ورڈ معلوم کر لیتے ہیں۔
کبھی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فون انہیں سڑک پر ملا ہے اور ایک اور شخص بھی اس فون پر اپنا دعویٰ کررہا ہے پھر ثبوت کے طورپرپاس ورڈ بتانے پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ فون ملنے کی خوشی میں متاثرہ شخص اکثر بینک کارڈ اور سم کارڈ بلاک نہیں کرواتا جس کا فائدہ چور اٹھاتے ہیں۔
فون ان لاک ہونے کے بعد ملزمین گیلری، نوٹس، میسجس اور واٹس ایپ چیٹس چیک کرتے ہیں گیلری میں محفوظ ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈس کی تصاویر، آدھار، پیان کارڈ اور بینک پاس بک کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔اس کے بعد یو پی آئی اکاؤنٹس اور بینکنگ ایپس کے پن تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔
پولیس کے مطابق ٹکنالوجی کے ماہر افراد بھی ان گروہوں کی مدد کرتے ہیں جو ایپس تک رسائی حاصل کرکے رقم دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیتے ہیں۔ یوں چند ہی لمحوں میں بینک اکاؤنٹس سے رقم غائب ہو سکتی ہے۔پولیس کمشنر نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی اجنبی یہ کہے کہ آپ کا فون مل گیا ہے
تو اسے پن ، پاس ورڈ یا اسکرین لاک کی معلومات ہرگز نہ دیں۔ ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈ، سی وی وی اور بینک پاس ورڈ کی معلومات فون میں محفوظ نہ رکھیں۔
فون گم ہوتے ہی اپنے موبائل سروس فراہم کنندہ سے رابطہ کرکے سم فوراً بلاک کروائیں۔ موبائل بینکنگ، انٹرنیٹ بینکنگ اور یو پی آئی خدمات کو عارضی طور پر فریز کروائیں۔
فون کو وی ای آئی آر کے ذریعے بلاک کریں۔ سائبر فراڈ کی صورت میں فوراً 1930 پر شکایت کریں یا سرکاری سائبر کرائم پورٹل پر رپورٹ درج کریں۔



