حیدرآباد میں اسلامی مائیکرو فائنانس اور چھوٹے و متوسط کاروباری اداروں کے موضوع پر یک روزہ اوپن ڈائیلاگ کا انعقاد

حیدرآباد میں اسلامی مائیکرو فائنانس اور چھوٹے و متوسط کاروباری اداروں کے موضوع پر یک روزہ اوپن ڈائیلاگ کا انعقاد
شہر حیدرآباد میں ہندوستان میں اسلامی مائیکرو فنانس اور چھوٹے و متوسط کاروباری اداروں کے موضوع پر ایک روزہ پروگرام (اوپن ڈائیلاگ) شمس آباد میں واقع وائٹ ہاؤس گارڈن میں منعقد ہوا،اس پروگرام میں ملک و بیرونِ ملک سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمانوں، ماہرینِ معیشت، بینکنگ اور مائیکرو فائنانس سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی اور ہندوستان میں اسلامک مائیکرو فائنانس کی موجودہ صورتِ حال، شرعی معاشی و تجارتی مسائل، چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں (SMEs) کے چیلنجز اور اسلامی وینچر فنڈز جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی، پروگرام کا انعقاد معرفہ اکیڈمی، انڈیا کی جانب سے کیا گیا۔
معرفہ اکیڈمی ایک اسلامک فائنانس ایجوکیشنل پلیٹ فارم ہے جو اسلامی فنانس کے میدان میں معیاری اور آسان انداز میں تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔پہلا سیشن،اسلامی مائیکرو فائنانس کے عنوان پر منعقد ہوا۔سیشن کا آغاز ہارورڈ لاء اسکول کے سابق وزٹنگ فیلو ڈاکٹر پروفیسر شارق نثار صاحب نے افتتاحی کلمات سے ہوا،اس کے بعد پروگرام کے باقاعدہ آغاز ابوظہبی سے تشریف لائے ہوئے مہمان جناب اکرام الرحمن فلاحی صاحب کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جبکہ کچھ مہمان آن لائن بھی اس پروگرام میں شریک ہوئے۔سب سے پہلے جناب اسامہ خان صاحب نے سہولت مائیکرو فنانس سوسائٹی کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک فلاحی ادارہ ہے اس کا مقصد ہندوستان میں سود سے پاک مائیکرو فنانس سرگرمیوں کو فروغ دینا، اور مسلم تاجروں، صنعت کاروں اور نئے کاروبار شروع کرنے والوں (انٹرپرینیورز) کی رہنمائی اور معاشی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔بیت النصرکے موجودہ مینیجنگ ڈائریکٹر جناب محمد سلیم قاضی صاحب نے بیت النصر کی تاریخ، اس کے قیام کے مقاصد، ترقی کے سفر اور موجودہ خدمات کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی،
انہوں نے بتایا کہ بیت النصر کا قیام ممبئی کے علاقے ماہم میں جناب ایم ایچ کھٹکھٹے صاحب کی کوششوں سے اس مقصد کے تحت وجود میں آیا کہ مسلم برادری اور ضرورت مند افراد کو سود سے پاک مالی سہولت فراہم کی جا سکے، انہوں نے ادارہ کی موجودہ صورتِ حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ بیت النصر کی 9 فعال شاخیں اس وقت ممبئی، تھانے اور ممبرا میں کام کر رہی ہیں
، اور ادارہ جدید ٹیکنالوجی اور Fintechسے استفادہ کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے،آخر میں انہوں نے بیت النصر کی موجودہ خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ سود سے پاک بچت اکاؤنٹس، گولڈ لون اور حج و عمرہ سیونگ اسکیم جیسی سہولیات فراہم کر رہا ہے، اور الحمدللہ بیت النصر نے اپنے طویل سفر کے دوران اپنے بنیادی مقصد یعنی سود سے پاک مالی سہولت کی فراہمی کو برقرار رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو جدید بنانے کی مسلسل کوشش کی ہے۔
معرفہ اکیڈمی کے بانی اور ذمہ دار ڈاکٹر عماد علی نے معرفہ اکیڈمی کا تعارف اور اسکے اہداف و مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے انسانی عزت و وقار (Dignity) کے موضوع پر گفتگو کی۔انہوں نے وضاحت کی کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور انسان کے لیے محنت کر کے اپنی ضروریات پوری کرنا دوسروں سے مانگنے سے کہیں بہتر ہے۔اس کے بعد جناب ڈاکٹر شارق نثار صاحب نے اپنی بات رکھی، انہوں نے مائیکرو فنانس کی ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا ایک اہم مقصد کم آمدنی والے افراد کو غربت کے دلدل سے نکالنا ہے اور مائیکرو فنانس ایسے افراد کو مالی وسائل فراہم کر کے اس دلدل سے اور مشکل سے آزادی دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ابوظہبی اسلامک بینک میں شریعہ اسٹرکچرنگ کے ہیڈ جناب اکرام الرحمن فلاحی صاحب نے اسلامک بینکنگ و فائنانس اور اسلامی مائیکرو فائنانس کا شرعی لحاظ سے جامع تعارف پیش کیا، انہوں نے شریعہ، اس کے مقاصد اور دائرہ کار پر مفصل گفتگو کی۔نشست کے آخر میں سہولت مائیکرو فائنانس سوسائٹی کے علاقائی ذمہ دار جناب اقبال حسین صاحب نے ثروت ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے ادارے کا تعارف کرایا اور اس کے ماڈل اور خدمات پر روشنی ڈالی،
انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ جماعتِ اسلامی ہند کی کاوشوں سے شروع ہوا اور اس کا بنیادی مقصد کوآپریٹو ماڈل کے ذریعے لوگوں کو سود سے پاک مائیکرو فائنانس فراہم کر کے مالی خود کفالت کی راہیں ہموار کرنا ہے۔ پروگرام کے دوسرے سیشن (چھوٹے و متوسط کاروباری ادارے (SMEs))کا آغاز جناب زید رضوی نے کیا، رہبر فنانشل سروسز کے نمائندے کے طور پر انہوں نے ادارے کے قیام، کاروباری فلسفے، مالیاتی ماڈل اور اسکی کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ اس مقصد کے ساتھ قائم کیا گیا کہ سود پر مبنی فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے متبادل حل فراہم کیے جائیں اور سرمایہ کاروں کو ایسے کاروباروں سے جوڑا جائے جو منصفانہ و عادلانہ اور متبادل مالیاتی ذرائع کے خواہاں ہوں۔ ہر سیشن کے اختتام پر شرکاء کو سوال و جواب کا موقع دیا کیا گیا
، جس میں شرکاء نے اسلامی مائیکرو فنانس اور اسلامی بینکاری سے متعلق مختلف سوالات کیے۔ آخر میں معرفہ اکیڈمی کے بانی جناب ڈاکٹر عماد علی نے تمام شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کی کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے تمام شرکاء کی شرکت اور دلچسپی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پروگرام میں ہونے والی گفتگو، ان شاء اللہ، اسلامی مائیکرو فنانس اور اسلامی بینکاری کے فروغ میں مفید ثابت ہوگی۔




