نیشنل

مسلم دکاندار کو ہراساں کرنے کی مخالفت کا معاملہ – سپریم کورٹ نے جم مالک محمد دیپک کے خلاف فوجداری مقدمہ پر روک لگادی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز اتراکھنڈ کے جم مالک دیپک کمار عرف ’’محمد دیپک‘‘ کے خلاف درج فوجداری مقدمہ کی کارروائی پر روک لگادی۔ یہ مقدمہ دائیں بازو کے کارکنوں کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ دیپک کمار نے رواں سال جنوری میں ایک مسلم دکاندار کو دکان کے نام پر ہراساں کرنے والے ہندوتوا کے کارکنوں کی مخالفت کی تھی۔

 

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے دیپک کمار کی درخواست پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

 

دیپک کمار نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں ہائی کورٹ نے مقدمہ خارج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے دیپک کو اس معاملہ سے متعلق سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

 

سپریم کورٹ بنچ نے کہا کہ نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ فی الحال متنازعہ ایف آئی آر کی بنیاد پر جاری کارروائی اور ہائی کورٹ کے حکم کے نفاذ پر روک رہے گی۔

 

یہ معاملہ 26 جنوری کو پیش آئے واقعہ سے متعلق ہے۔ دائیں بازو کے کارکن ایک عمر رسیدہ مسلم دکاندار سے ان کی دکان کے نام میں موجود لفظ ’’بابا‘‘ ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بابا‘‘ ہندو مذہب سے وابستہ لفظ ہے۔ دیپک کمار نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کارکنوں کی مخالفت کی تھی۔

 

جب کارکنوں نے دیپک سے اس کا نام پوچھا تو اس نے اپنا نام ’’محمد دیپک‘‘ بتایا، حالانکہ اس کا اصل نام دیپک کمار ہے۔ بعد میں دائیں بازو کے کارکنوں نے اس کے خلاف شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ دیپک نے انہیں دھمکایا اور گالی گلوچ کی۔

 

شکایت کی بنیاد پر دیپک کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 115(2)، 191(1)، 351(2) اور 352 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ان دفعات میں مارپیٹ، فساد، مجرمانہ دھمکی اور امن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے دانستہ توہین جیسے الزامات شامل ہیں۔

 

دیپک کمار نے 31 جنوری 2026 کو درج ایف آئی آر کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ مارچ 2026 میں ہائی کورٹ نے ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے یہ حکم ریاستی پولیس کی اس یقین دہانی کے بعد دیا تھا کہ سات سال تک کی سزا والے جرائم کی تحقیقات کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کی مقرر کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔

 

ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ دیپک کمار کی جانب سے دی گئی شکایت کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ دیپک کی شکایت پر دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، اس لئے مزید ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

 

ہائی کورٹ نے پولیس تحقیقات متاثر ہونے کے خدشہ کے پیش نظر دیپک کمار کو سوشل میڈیا پر اس معاملہ سے متعلق تبصرہ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔ عدالت نے ریاست کے اس دعوے کا بھی سخت نوٹ لیا تھا کہ دیپک تحقیقات میں تعاون کرنے کے بجائے ’’سوشل میڈیا پر مصروف‘‘ ہے۔

 

عدالت نے کہا تھا کہ جنوری کے واقعات سے متعلق دیپک کو سوشل میڈیا پر کوئی پیغام یا ویڈیو جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت کے مطابق منصفانہ تحقیقات کے لئے یہ ضروری ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر پیغامات اور ویڈیوز جاری کرنے سے تحقیقات متاثر ہوسکتی ہیں۔

 

ہائی کورٹ نے دیپک کی جانب سے دھمکیوں سے تحفظ اور بعض پولیس افسران کے مبینہ جانبدارانہ رویہ کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات کی درخواستیں بھی مسترد کردی تھیں۔ تاہم ریاستی حکومت نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ دیپک کمار کو دھمکیوں کے پیش نظر پولیس تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور پورے معاملہ کی منصفانہ تحقیقات کی جائیں گی۔

 

اب دیپک کمار نے ہائی کورٹ کے اسی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس پر سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمہ کی کارروائی پر عبوری روک لگاتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button