چلتی بس میں 16 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی۔دہلی میں شرمناک واقعہ

چلتی بس میں 16 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی۔دہلی میں شرمناک واقعہ
نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی کے نواحی علاقے میں نربھیا کیس کی یاد تازہ کرنے والا ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔
اتر پردیش سے آنے والی 16 سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ چلتی سلیپر بس میں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مل کر گینگ ریپ کیا۔ 4 اگست کو پیش آنے والا یہ واقعہ تاخیر سے منظر عام پر آیا۔ متاثرہ کے ارکان خاندان اور رشتہ داروں کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم ڈرائیور کلدیپ اور کنڈکٹر سندیپ کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق اتر پردیش کے مین پوری ضلع کی رہنے والی 16 سالہ طالبہ اپنے ارکان خاندان سے ناراض ہو کر نوئیڈا میں اپنے رشتہ داروں کے گھر جانے کے لیے نکلی تھی۔ اس دوران وہ گریٹر نوئیڈا کے پری چوک پر دہلی جانے والی ایک پرائیویٹ سلیپر بس میں سوار ہوئی۔
گریٹر نوئیڈا کے پری چوک سے دہلی کے کشمیری گیٹ تک کے تقریباً 47 کلومیٹر کے طویل سفر کے دوران یہ گھناؤنا فعل انجام دیا گیا۔بس کی کھڑکیوں پر پردے پڑے ہونے کی وجہ سے باہر کے لوگوں کو اندر ہونے والی صورتحال کا پتہ نہیں چل سکا۔
اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بس کے ڈرائیور کلدیپ اور کنڈکٹر سندیپ نے چلتی بس میں لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ درندگی کے بعد ملزمین نے لڑکی کو دہلی کے کشمیری گیٹ بس اسٹینڈ پر اتارا اور فرار ہو گئے۔
نیم بے ہوشی کی حالت میں متاثرہ نے اپنے ارکان خاندان کو اطلاع دی، جس کے بعد وہ موقع پر پہنچے اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔ شکایت ملنے پر حرکت میں آتے ہوئے
پولیس نے بس کی تفصیلات کی بنیاد پر تحقیقات کیں اور ملزمین کلدیپ اور سندیپ کو گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھیج دیا۔



