نیشنل

ہندو راشٹرا کا مطلب مسلمانوں کو ملک سے نکالنا نہیں: موہن بھاگوت

 

حیدرآباد: آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوتوا کا مطلب مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنا نہیں بلکہ مذہبی اختلافات کے باوجود انسانیت کے ناطے اتحاد کے ساتھ رہنا ہے۔ وہ ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں اور نیویارک میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

 

موہن بھاگوت نے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے تو وہ حقیقی ہندو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب کسی بھی مذہب کے ساتھ امتیاز نہیں کرتا۔ اسی طرح اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے تو وہ بھی حقیقی ہندو نہیں ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مذہبی اختلافات اپنی جگہ ہیں، لیکن انسانیت کے اعتبار سے ہم متحد ہیں۔ روایتی طور پر بھی ہندوستان نے ہر ایک کو پناہ دی ہے۔ دنیا میں جو لوگ خود کو کہیں محفوظ محسوس نہیں کرتے تھے، انہوں نے ہندوستان کو محفوظ مقام سمجھا۔

 

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ آر ایس ایس اس حقیقت پر یقین رکھتی ہے کہ پوری دنیا میں انسانیت ایک ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ مختلف قسم کے اختلافات اور تنوع کے باوجود ہم سب ایک ہیں، یہ پیغام عام کریں۔

 

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ہندو راشٹرا کا مطالبہ کرتے ہیں، جس پر کچھ مسلمان یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس کا مطلب مسلمانوں کو ملک سے باہر نکالنا ہے؟ ایسے لوگوں سے میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جو ہندو ایسا سوچتے ہیں، وہ ہندو نہیں ہیں۔

 

موہن بھاگوت نے کہا کہ جب تک انسان ’’میں اور میرا‘‘ کی سوچ میں مبتلا رہے گا، مسئلہ کا حل نہیں مل سکتا۔ جس دن ہم ’’ہم اور ہمارا‘‘ کی سوچ اختیار کریں گے، اسی دن مسئلہ کا حل مل جائے گا۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button