نیپال : تباہ شدہ سرنگ سے آرہی تھی آوازیں۔ 9 دن بعد دو افراد بچا لیا گیا

نئی دہلی: سیلاب سے شدید متاثرہ نیپال میں لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ قدرتی آفت کے نو دن بعد رسوا ضلع میں واقع تریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی ایک سرنگ سے سکیورٹی فورسز نے دو افراد کو زندہ باہر نکال لیا۔
ملبے سے تباہ شدہ سرنگ کے اندر سے انسانوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع نیپال کی راشٹریہ سواتنترا پارٹی کے رکن شری رام نیوپانے نے سب سے پہلے سوشل میڈیا پر دی تھی۔ اس کے بعد امدادی کارکنوں نے سرنگ میں پھنسے افراد کے زندہ ہونے کی تصدیق کی اور کیچڑ اور ملبہ ہٹاتے ہوئے دونوں افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
زندہ بچائے گئے دونوں کارکنوں کی شناخت مکینیکل فورمین سنجے ساہ اور مکینیکل سپروائزر کبیر مہرجن کے طور پر کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق 26 اگست کو آنے والی تباہ کن سیلابی صورتحال کے بعد تریشولی تھری اے پاور اسٹیشن میں تقریباً 40 افراد لاپتہ ہوگئے تھے۔
فی الحال سرنگ میں پھنسے دیگر افراد کو بچانے کے لیے امدادی ٹیمیں اندر جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ راستے میں موجود کیچڑ اور ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری اور خصوصی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان اور خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب لانگ ٹانگ کھولا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سرنگ سے امدادی کارکنوں نے دو افراد کی نعشیں بھی برآمد کی ہیں۔سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث رسوا اور نواکوٹ اضلاع میں 12 اسکول تباہ ہوگئے ہیں۔ دونوں اضلاع میں مجموعی طور پر تقریباً 600 طلبہ کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
مقامی حکام نے بتایا کہ لاپتا طلبہ کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرس سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق طلبہ کے علاوہ 22 اساتذہ اور متعدد دیگر اسکول ملازمین بھی لاپتہ ہیں۔



