نیشنل

سہارنپور مسجد انہدام پر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ،مسجد کمیٹی سے6.41 کروڑ کی وصولی پر بھی روک – یوگی حکومت سے 3 ہفتوں میں جواب طلب

لکھنو: اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے سہارنپور ڈسٹرکٹ کلکٹریٹ احاطہ میں واقع مسجد کے انہدام کو چیلنج کرنے والی عرضی پر اترپردیش حکومت کو تین ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

 

عدالت نے مسجد پر سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ کی جانب سے عائد کئے گئے 6.41 کروڑ روپے کے ہرجانے کی وصولی پر بھی آئندہ احکامات تک روک لگا دی ہے۔

 

جسٹس روہت رنجن اگروال کی سنگل بنچ نے مدعا علیہ نمبر دو کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت 12 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔

 

یہ عرضی مسجد کمیٹی کے متولی محمد تنویر احمد نے دائر کی ہے، جس میں مسجد کے انہدام سے متعلق مزید کارروائی روکنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

 

سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع مسجد کو 5 ستمبر کو عدالتی حکم کے بعد منہدم کیا گیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل 4 ستمبر کو ڈسٹرکٹ جج کی عدالت نے سٹی مجسٹریٹ کے 17 جولائی کے حکم کے خلاف مسجد کمیٹی کی اپیل مسترد کردی تھی۔

 

سٹی مجسٹریٹ نے مبینہ سرکاری اراضی پر قبضے اور اس کے غلط استعمال کے الزام میں مسجد منہدم کرنے اور تقریباً 6.41 کروڑ روپے معاوضہ عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button