جنرل نیوز

ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضورصلعم کی آمد کی خوشی منانا باعث برکت

جامع مسجد چوک میں نعتیہ مشاعرہ۔خطیب مکہ مسجد مولانا ڈاکٹر رضوان قریشی کا خطاب۔شعراکا نذرانہ عقیدت

حیدرآباد 11 ستمبر (اردو لیکس) مولانا حافظ وقاری ڈاکٹر محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد نے کہا کہ قرآن حکیم صبح قیامت تک ساری دنیا میں پڑھی جانے والی عظیم الشان اور مقدس کتاب ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ اس کی ہر روز تلاوت کرے قرآن مجید کے معنی و مطلب کو سمجھیں اور اپنی زندگی کو اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق گزاریں

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انتظامی کمیٹی مسجد چوک کی جانب سے دو روزہ جشن میلاد کے سلسلے میں نعتیہ مشاعرے کے موقع پر جامع مسجد چوک میں اپنے خصوصی خطاب میں کیا صدر انتظامی کمیٹی جناب منور حسین صدر بزم حسین نے نگرانی کی بعد ازاں غیر طرحی نعتیہ مشاعرہ ہوا محفل کاآغاز مولانارضوان قریشی کی کمسن دختر ماریہ رضوان قریشی کی قراءت سے ہوا

 

نظامت کے فرائض ممتاز و معروف سنجیدہ ‘مزاحیہ و نعتیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے کی اس موقع پر بہترین انتظامات کرنے پر جناب محمد علی عرف چاند بھائی مالک دیوان ہوٹل کی جناب منور حسین نے شال پوشی کی اور مسجد چوک سے متعلق ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پراثر خراج تحسین پیش کیا 11 ستمبر کو بعد نماز جمعہ زیارت آثار مبارک کا اہتمام بھی کیا گیا جس کی نگرانی صدر انتظامی کمیٹی جناب منور حسین نے کی مولانا ڈاکٹر محمد رضوان قریشی نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے

 

کہا کہ حضور کی شان میں محفلیں سجانا’ آپ کا ذکر کرنا اور سیرت کا تذکرہ کرنا یہ صحابہ کی سنت ہے اور خود حضور کا پسندیدہ عمل بھی ہے انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانا باعث برکت ہے لیکن اس سلسلے میں ادب و احترام کو ہر حال میں باقی و برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے ادب و احترام کے بغیر محفل میلاد منانا بالکل بھی مناسب نہیں ایسے مواقع پر ہمیں خرافات سے سختی سے پرہیز کرنا چاہیے محفل میلاد کے وقت کسی بھی قسم کے شور و شغب کی کوئی اجازت ہی نہیں دی جا سکتی انہوں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کو پست کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

 

حکومتیں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کام نہیں کر رہی ہیں مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کے بجائے ان کو ختم کرنے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ایسے حالات میں ہم کو آپسی اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے سے محبت و خلوص سے پیش آنا ضروری ہے اگر اب بھی ہم میں اتفاق نہ ہوا تو پھر باطل طاقتوں کو ہمارے خلاف سازشیں رچنے میں مزید کامیابی حاصل ہوگی انہوں نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں آپ کے بعد صبح قیامت تک کوئی نبی نہیں آنے والا ہے اور اگر کوئی نبوت کا دعوی کرتا ہے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہے اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے مولانا رضوان قریشی نے مزید

 

کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ساری مخلوقات جن میں چرند’ پرند’ سمندر میں رہنے والی مخلوق اور جتنی بھی مخلوقات ہیں تمام مخلوقات کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت ہی رحمت بن کر تشریف لائے انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم میں جتنی آیتیں ہیں ان سب میں سب سے عظیم الشان آیت وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین ہے اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت اور شان و مرتبہ ظاہر ہوتا ہے جو لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے وہ قرآن کریم کی ہدایت اور ارشاد سے غافل ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے 700 سال قبل ہی اپنی امت کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کی خوشخبری دی تھی

 

اور یہ تک بتا دیا تھا کہ آنے والے آخری پیغمبر کا نام احمد ہوگا اس موقع پر مختلف اصحاب کی جانب سےجناب منور حسین کی شال پوشی کی گئی اس موقع پر رکن نمائش سوسائٹی جناب تقی الدین شجیع کے علاوہ جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندرآباد کوآپریٹو بینک’ جناب محمد حسام الدین ریاض’ جناب سید عبدالمجید’ جناب محمد راشد انور ‘جناب محمد سکندر’ جناب نجم الدین ‘جناب ستار خان علیم’ جناب محمد رفیع ڈھاکلی ‘جناب محمد مجاہد علی’جناب اعظم خان’ جناب لیاقت علی خان ‘جناب محمد عارف اور دوسروں نے شرکت کی ممتاز ومعروف مخدوم ایوارڈ یافتہ شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل کی نگرانی میں نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا نگران مشاعرہ کے علاوہ جناب سردار سلیم ‘جناب شاہدعدیلی’ جناب سمیع اللہ حسینی سمیع’ قاضی فاروق عارفی’ جناب طاہر گلشن آبادی’ جناب اکبر خان اکبر’ ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری’ جناب فرید سحر’ جناب ظفر فاروقی’ پروفیسر محمد مسعود احمد’ جناب علی جواد شہپر’ جناب لطیف الدین لطیف’ جناب امین الدین انصاری ‘جناب سہیل عظیم اور

 

جناب جہانگیر قیاس نے نذرانہ عقیدت پیش کیا جناب منور قادری اور دوسروں نے سلام پڑھا جناب لطیف الدین لطیف کے شکریہ پر نعتیہ محفل کا اختتام عمل میں آیا بعدزاں شرکاء کے لیے عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا.

متعلقہ خبریں

Back to top button