انٹر نیشنل

بھارت پر حملے کی اسامہ بن لادن نے کی تھی سازش؟ سی آئی اے کی سنسنی خیز خفیہ دستاویزات جاری

نئی دہلی: امریکہ پر ہونے والے 9/11 حملوں کو 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے نے اہم دستاویزات جاری کئے ہیں۔ ادارہ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن جن ممالک پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ان میں ہندوستا بھی شامل تھا۔

 

 

سی آئی اے نے اسامہ بن لادن سے متعلق 70 سے زائد صدارتی انٹیلی جنس بریفز اور 100 سے زیادہ صفحات پر مشتمل مواد حال ہی میں جاری کیا ہے۔28 اگست 1998 کی ایک صدارتی بریف کے مطابق بن لادن نے بھارت سمیت بعض دیگر ممالک پر حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔اس فہرست میں پاکستان، مصر، کویت، سعودی عرب، یمن، یوگنڈا اور نائجیریا جیسے ممالک کے نام بھی شامل تھے۔ تاہم اس میمو کے کچھ حصوں کو حکام نے سنسرکر دیا ہے۔”Bin Ladin Terrorist Network Still a Threat” کے عنوان سے جاری اس دستاویز میں معلومات کے ذرائع کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

 

اس کے علاوہ بھارت کو ہدف بنانے کے حوالے سے بھارتی عناصر حملے کی تاریخ یا آپریشنل منصوبے کی بھی کوئی واضح تفصیل نہیں دی گئی۔دستاویزات میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ افغانستان میں موجود بن لادن اور دیگر دہشت گرد رہنما امریکی حملوں کے باوجود زندہ ہیں اور ان کا مواصلاتی نیٹ ورک بھی بدستور فعال اور محفوظ ہے۔ان دستاویزات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم نے بعض کیمپوں میں دوبارہ تربیت شروع کر دی تھی

 

جبکہ کچھ دیگر کیمپوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ سی آئی ے کی جانب سے جاری کردہ ایک دستاویز کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے کیمپوں پر امریکی میزائل حملے سے چند گھنٹے قبل بن لادن امریکہ اور برطانیہ کے خلاف مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

 

دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ بن لادن کم از کم 60 ممالک میں موجود افراد اور اپنے اتحادی دہشت گرد نیٹ ورک کو حملوں کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔اسی طرح ان دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 1998 سے 2001 تک سی آئ اے نے امریکہ میں ممکنہ دہشت گرد حملوں اور سابق امریکی صدور کو کئی مرتبہ خبردار کیا تھا یعنی ان بریفز میں بل کلنٹن کے دورِ صدارت سے لے کر جارج ڈبلیو بش کے دورِ حکومت تک کی معلومات شامل ہیں۔

 

11 ستمبر 2001 کو القاعدہ کے 19 دہشت گردوں نے چار مسافر طیاروں کو ہائی جیک کیا تھا۔ان میں سے دو طیارے نیویارک شہر میں موجود ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں یہ بلند عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں۔تیسرا طیارہ پینٹاگون سے ٹکرا گیا، جبکہ چوتھے طیارے کے بارے میں خیال کیا گیا کہ اسے وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس کو نشانہ بنانے کے لیے

 

استعمال کیا جانا تھا۔تاہم مسافروں نے ہائی جیکروں کے خلاف مزاحمت کی جس کے نتیجے میں یہ طیارہ پنسلوانیا کے ایک کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button