1980 کے ریٹرو ٹرینڈ فوٹو ایڈیٹنگ کرنے والوں کو پولیس کا ضروری مشورہ

حیدرآباد: سوشل میڈیا پر اس وقت مقبول ہونے والے 1980 کی دہائی کے ریٹرو فوٹو ایڈیٹنگ ٹرینڈ کو سائبر جرائم پیشہ افراد اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ تلنگانہ سائبر سیکیورٹی بیورو نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ پرکشش فوٹو ایڈیٹنگ آفرز کے نام پر بھیجے جانے والے لنکس اور ایپس کے ذریعے سائبر فراڈ کیا جا سکتا ہے۔
پولیس نے عوام کو مشورہ دیا ہے "کلک کرنے سے پہلے سوچیں اور ایپ انسٹال کرنے سے پہلے تصدیق کریں۔”سائبر مجرم مفت اور لامحدود ریٹرو فوٹو ایڈیٹنگ کی پیشکش کے نام پر پرکشش اشتہارات اور پیغامات بھیج سکتے ہیں۔ ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مشکوک لنکس بھیج کر لوگوں کو ان پر کلک کرنے کے لیے راغب کیا جا سکتا ہے۔
پولیس نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری ایپس کے بجائے لوگوں سے نقصان دہ اے پی کے فائلیں ڈاؤن لوڈ کروائی جا سکتی ہیں۔ ایسی ایپس موبائل میں انسٹال کرنے سے ذاتی اور مالی معلومات کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔نقصان دہ ایپس کے ذریعے سائبر مجرم موبائل میں موجود ایس ایم ایس، او ٹی پی ، کانٹیکٹس، نوٹیفکیشنز، بینکنگ اور دیگر مالی معلومات چوری کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ موبائل میں محفوظ حساس معلومات بھی چوری کرکے مالی فراڈ، غیر مجاز لین دین اور شناخت کی چوری جیسے جرائم کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔نامعلوم سوشل میڈیا لنکس پر کلک نہ کریں۔نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجی گئی اے پی کے فائلیں کسی بھی صورت میں انسٹال نہ کریں۔
ایپس صرف سرکاری اور قابلِ اعتماد ایپ اسٹورسے ہی ڈاؤن لوڈ کریں۔ایپ انسٹال کرنے سے پہلے اس کی جانب سے مانگی جانے والی اجازت ضرور چیک کریں۔ او ٹی پی، پن، پاس ورڈ اور بینکنگ کی تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔کوئی مشکوک ایپ نظر آئے تو اسے فوری طور پر ان انسٹال کریں۔
موبائل آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔اگر آپ سائبر فراڈ کا شکار ہوجائیں تو فوری طور پر 1930 پر شکایت درج کریں اور cybercrime.gov.in کے ذریعے بھی سائبر جرم کی اطلاع دیں۔



