گھر میں جماعت کے لئے اذان ضروری نہیں، مسجد کی اذان کافی ہے: صابر پاشاہ قادری
گھر میں جماعت کے لیے اذان ضروری نہیں، مسجد کی اذان کافی ہے: صابر پاشاہ قادری
اذان سے پہلے درودِ پاک پڑھنا باعثِ برکت، بعدِ اذان درود و دعائے وسیلہ کی خصوصی فضیلت
حیدرآباد، 14 ستمبر (پریس ریلیز):
نماز بندۂ مومن کی زندگی کا وہ روشن چراغ ہے جس سے دل کو سکون، زندگی کو نظم اور روح کو بالیدگی حاصل ہوتی ہے۔ اذان نماز کی طرف دعوت اور شعائرِ اسلام کا عظیم مظہر ہے، جبکہ درود و سلام محبتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اظہار اور باعثِ رحمت و برکت ہے۔ ان عبادات سے متعلق مسائل میں شرعی احکام کو صحیح طور پر سمجھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج صدر دفتر، بنجارہ ہلز، روڈ نمبر 12، حیدرآباد میں منعقدہ ’’عوامی مسائل کا حل احکامِ شریعت کی روشنی میں‘‘ شرعی نشست میں عوام کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو مسلمانوں کو مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ مسجد کی جماعت کی اپنی فضیلت اور اہمیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی گھر میں دو افراد ہوں اور کسی مجبوری یا شرعی عذر کی وجہ سے وہ گھر ہی میں باجماعت نماز ادا کریں، جبکہ قریب کی مسجد میں ہونے والی اذان کی آواز کبھی گھر تک پہنچتی ہو اور کبھی نہ پہنچتی ہو، تو ایسی صورت میں گھر میں دوبارہ اذان دینا ضروری نہیں۔ مسجد کی اذان کافی ہے، گھر میں صرف اقامت کہہ کر جماعت قائم کی جاسکتی ہے۔
اذان سے پہلے درودِ پاک پڑھنے میں کوئی حرج نہیں
ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اہلِ ایمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا عمومی حکم عطا فرمایا ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ…
ترجمہ: ’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔‘‘
(الاحزاب: 56)
انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم میں درود و سلام کے لیے کسی خاص وقت کی پابندی نہیں کی گئی اور نہ ہی اذان سے قبل درود پڑھنے کی کوئی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ اس لیے اذان سے پہلے درودِ پاک پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ باعثِ برکت عمل ہے۔
البتہ اذان سننے کے بعد درودِ پاک پڑھنے کی خصوصی فضیلت احادیثِ مبارکہ میں بیان ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو اس کے کلمات کا جواب دو، پھر مجھ پر درود پڑھو اور اس کے بعد میرے لیے وسیلہ کی دعا مانگو؛ جو شخص میرے لیے وسیلہ کی دعا مانگے گا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔
(صحیح مسلم، حدیث: 738)
مولانا صابر پاشاہ قادری نے وضاحت کی کہ اذان سے پہلے درود پڑھنے کی ممانعت ثابت نہیں، اس لیے اسے ناجائز قرار دینا درست نہیں۔ جو شخص اذان سے پہلے درود پڑھے وہ باعثِ برکت عمل کرتا ہے، اور جو نہ پڑھے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ تاہم اذان کے بعد درودِ پاک اور دعائے وسیلہ پڑھنے کی جو خصوصی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اس کا اہتمام کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔
انہوں نے کہا کہ شریعتِ مطہرہ کے احکام کو سمجھنے کے لیے مستند علماء اور فقہائے کرام کی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے تاکہ عبادات میں سنت، ادب اور شرعی اصولوں کی مکمل پاسداری ہوسکے۔



