جنرل نیوز

شخصیت سازی میں والدین اور اساتذہ کا اہم کردار

محفل" عصرانہ" -پروفیسر مسعود احمد 'محمد علیم خان 'صبغت اللہ شاہد اور منور حسین کا خطاب- شعرا نے کلام سنایا

حیدرآباد 17- ستمبر (اردولیکس)پروفیسر محمد مسعود احمد نے کہا کہ شخصیت سازی میں والدین اور اساتذہ کا کلیدی رول ہوتا ہے دنیا میں کوئی بھی شخص خواہ کتنی بھی ترقی کر لے اس کی ترقی اور بلندی میں اس کے والدین کی دعائیں اور استاد کی تربیت کا بہت بڑا دخل شامل ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد کی چودھویں نشست "محفل عصرانہ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا

 

جس کا موضوع "شخصیت سازی کی اہمیت” دیا گیا تھا پروفیسر محمد مسعود احمد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جبکہ سیل فون کا استعمال حد سے زیادہ ہو گیا ہے ایسے حال وماحول میں اساتذہ کی ذمہ داریاں پہلے سے دو چند ہو جاتی ہیں اگرچہ کہ قوم کے معماروں کی تربیت کی والدین کے بعد اساتذہ کی ذمہ داری ہے لیکن نصابی بوجھ نے اساتذہ کو بھی اپنے طلبہ کی شخصیت سازی کے عمل سے بڑی حد تک دور کر دیا ہے

 

پھر بھی بہت سارے اساتذہ اپنے اپنے طور پر اخلاقی باتوں اور دیگر اچھی اچھی باتوں سے طلبہ و طالبات کو واقف کرواتے ہوئے ان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں جو ایک مستحسن اقدام ہے طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین’ سرپرستوں ‘رشتہ داروں اور بالخصوص اساتذہ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو نکھاریں صرف تعلیم حاصل کرنے یا پھر ڈگری حاصل کرنے سے ہم سرخرو نہیں ہو سکتے جناب فضل تمیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ محفل عصرانہ کا نام ہی بابرکت ہے

 

مجھے باذوق حضرات کو دیکھ کر بڑی مسرت حاصل ہوئی ہے انہوں نے محفل عصرانہ کے پابندی سے انعقاد پر پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد دیتے ہوئے چند اشعار بھی سنائےجناب محمد علیم خان این آر آئی(ابو ظہبی) نے کہا کہ محفل عصرانہ کے ذریعے ہر وقت نئے نئے شعراء کے کلام سے محظوظ ہونے اور مختلف ادبی خیالات کو سننے کا موقع مل رہا ہے جو باعث مسرت ہے اردو اخبارات کے ممتاز و معروف مراسلہ نگار جناب صبغت اللہ شاہدنے کہا کہ محفل عصرانہ نے بہت جلد مقبولیت حاصل کر لی ہے اس محفل کے ذریعے شعراء برادری اور ادیبوں کو ایک ساتھ مل بیٹھنے کا ہر ہفتہ موقع فراہم ہو رہا ہے اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے

 

جناب محمد منور حسین بانی بزم حسین نے اس محفل کے لیے اپنے نیک کا توقعات کا اظہار کیا اور خواہش کی کہ اردو داں عوام اس محفل میں کثیر تعداد میں شریک ہوں جناب محمد عبدالغنی مہمان خصوصی تھے جناب محمد عبدالعلیم خان اور ڈاکٹرعبدالغنی کی جناب منور حسین نے شال پوشی کی مخدوم ایوارڈ یافتہ شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ ہوا صدر مشاعرہ کے علاوہ طاہر گلشن آبادی’ پروفیسر محمد مسعود احمد’جناب سید فرید احمد المعروف فرید سحر ‘انجنی کمار گویل’ لطیف الدین لطیف ‘دیپک والمیکی ‘ جناب سید مصطفی علی سید’ جہانگیر قیاس، شرف الدین ارشد’ سہیل عظیم ‘سلیمان صدیقی اعتبار نے کلام سنایا

 

نظامت کے فرائض ممتاز و معروف مزاحیہ و سنجیدہ نعتیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے انجام دیے پروفیسر مسعود احمد نے ڈاکٹر عبدالغنی’این ار ائی جناب محمد عبدالعلیم خان ‘جناب صبغت اللہ شاہد اور دیپک والمیکی کو اپنی تصانیف کا تحفہ پیش کیا اس موقع پر ڈاکٹر محمد آصف علی ‘جناب سید مجتبی عابدی ‘جناب محمد مظفر احمد ‘جناب محمد حسن الدین مادنا پیٹ ‘جناب محمد اسماعیل فرسٹ لانسر’ جناب محمد عارف بندلہ گوڑہ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button