تلنگانہ

وقف اراضی قرار دینے سے پہلے قانونی ضابطوں پر عمل ضروری – 2001 کا گزٹ نوٹیفکیشن تلنگانہ ہائی کورٹ نے منسوخ کردیا

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی زمین کو وقف جائیداد قرار دینے سے قبل قانون میں مقررہ طریقۂ کار پر لازماً عمل کرنا ضروری ہے۔ میدک ضلع کے توپران منڈل میں مختلف سروے نمبروں کے تحت موجود اپنی اراضی کو وقف جائیداد قرار دیتے ہوئے 2001 میں جاری کئے گئے گزٹ نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے سیدہ غوثیہ سلطانہ سمیت 39 افراد نے ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ ان درخواستوں پر جسٹس علی شیٹی لکشمی نارائنا نے 15 ستمبر کو فیصلہ سنایا۔

 

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزاروں کے پاس اراضی سے متعلق آکیوپنسی رائٹس سرٹیفکیٹس، پٹہ دار پاس بکس اور ٹائٹل ڈیڈز موجود ہیں، جبکہ محکمۂ مال کے ریکارڈ میں بھی یہ اراضی ان کے نام پر درج ہے۔ عدالت نے بتایا کہ 20 دسمبر 2001 کو جاری کئے گئے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ان اراضی کو ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کردیا گیا تھا، جس کے باعث ان کی فروخت اور دیگر لین دین متاثر ہوئے۔

 

عدالت نے واضح کیا کہ کسی زمین کو وقف جائیداد قرار دینے سے پہلے قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہے، تاہم موجودہ معاملے میں ایسا عمل کئے جانے کو ثابت کرنے والے کوئی شواہد وقف بورڈ کی جانب سے پیش نہیں کئے گئے۔

 

ہائی کورٹ نے کہا کہ وقف قانون 1954 کی دفعات 4 اور 5 کے مطابق حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سروے کمشنر کے ذریعے اراضی کا سروے کرایا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی زمین کی نوعیت، اس کے ماخذ اور اسے وقف کے طور پر مختص کئے جانے کے معاملے پر تحقیقات کی جانی چاہئے اور اس کی رپورٹ تیار کی جانی چاہئے۔

 

عدالت نے مزید کہا کہ اس کے بعد وقف بورڈ کو سروے رپورٹ کا جائزہ لینا چاہئے، متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کرکے ان کے اعتراضات حاصل کرنے چاہئیں اور ان اعتراضات کا ازالہ کرنے کے بعد ہی گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جاسکتا ہے۔

 

تاہم، اس معاملے میں وقف بورڈ سروے رپورٹ، تحقیقات سے متعلق ریکارڈ، متعلقہ افراد کو جاری کئے گئے نوٹس، اعتراضات وصول کئے جانے کے ثبوت اور ٹام ٹام یا ڈھنڈورا پٹوا کر عوام کو اطلاع دینے سے متعلق ریکارڈ بھی عدالت میں پیش نہیں کرسکا۔

 

ہائی کورٹ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ صرف گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بنیاد پر کسی زمین کو وقف جائیداد قرار دینا قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ چنانچہ عدالت نے درخواست گزاروں کی اراضی سے متعلق گزٹ نوٹیفکیشن نمبر 46-اے کو منسوخ کردیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button