ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کے اندر ہی اختلافات، 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے پر اٹھتے سوال

نئی دہلی:مرکزی الیکشن کمیشن کو سخت تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل کے تحت ملک بھر میں تقریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور اس معاملے پر مرکزی الیکشن کمیشن (ECI) کے کمشنروں کے درمیان شدید اندرونی اختلافات سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ ملک بھر میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
اس صورتحال نے اس بات پر بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ یہ فیصلہ کرنے میں الیکشن کمیشن کا کیا کردار ہے کہ کون ووٹ ڈال سکتا ہے اور کون نہیں۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں SIR کے دوران 13 کروڑ سے زیادہ نام ڈرافٹ ووٹر لسٹوں سے حذف کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات کئے۔
خاص طور پر ووٹر ڈیٹا بیس کو دہلی سے مرکزی طور پر چلانے اور نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم-6 میں تبدیلیوں جیسے معاملات پر دونوں کمشنروں نے سوالات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں نے اعتراض کیا کہ فارم-6 میں یہ تبدیلیاں ان کی اجازت کے بغیر کی گئی تھیں۔اس پیش رفت پر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی شدید الزامات عائد کیے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ یہ ووٹ چوری کرنے کے مترادف اور آئین پر براہِ راست حملہ ہے۔
انہوں نے بی جے پی، آر ایس ایس اور الیکشن کمیشن پر بھی سنگین الزامات عائد کیے۔کپل سبل نے بھی SIR کے نام پر کروڑوں لوگوں کے ووٹ حذف کیے جانے پر الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے آئی ٹی نظام کو مرکزی بنانے پر کئی سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ مغربی بنگال میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام مبینہ طور پر غلط طریقے سے حذف کیے جانے کی وضاحت کی جائے۔
انہوں نے ECI کے آئی ٹی نظام کی مرکزیت اور فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔دوسری جانب، SIR کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراضات کیے جانے سے متعلق اخبارکی رپورٹ پر بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے. ٹی. راما راؤ نے بھی ردِعمل ظاہر کیا۔الیکشن کمیشن کے اندر ہی اختلافات سامنے آنے کی
اطلاعات کے بعد SIR کے عمل میں شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کے حوالے سے بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔



