حضرت شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقیؒ کی علمی ، دینی اور اصلاحی خدمات ناقابلِ فراموش۔اسدالعلماء مولانا محمد محسن پاشاہ قادری

یادگیر،ضلع -، 8 نومبر ( پریس نوٹ ):بانیٔ جامعہ نظامیہ شیخ الاسلام والمسلمین عارف باللہ والارضیین حقیقت آگاہ معرفت دستگاہ امام اہلِ سنت مجددِ دین و ملت استاذِ اولیاء اللہ و استاذِ سلاطینِ آصفیہ حضرت علامہ حافظ الحاج امام محمد انواراللہ فاروقی فضیلت جنگ بہادرؒ کی علمی و روحانی ، دینی ، تصنیفی و تألیفی ، اصلاحی اور ملی خدمات تاریخِ دکن کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہیں ۔ آپؒ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام و اہلسنت و جماعت کی ترویج و اشاعت ، علومِ اسلامیہ کے فروغ ، عقائدِ اہلِ سنت والجماعت کے تحفظ ، اصلاحِ معاشرہ اور ملتِ اسلامیہ کی علمی و روحانی رہنمائی کے لئے وقف فرما دی تھیں ۔
ان خیالات کا اظہار بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع نے کل رآت مستقر یادگیر کے بیت المال فنکشن ہال ، گچی باولی میں منعقدہ عظیم الشان فقید المثال تاریخی جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
جلسہ کا انعقاد اصلاحِ معاشرہ اور بانیٔ جامعہ امام محمد انواراللہ فاروقیؒ کی خدمات و احسانات کے عنوان سے 7 نومبر 2026ء بروز ہفتہ بعد نمازِ عشاء عمل میں آیا ، جس میں شہر یادگیر اور اطراف و اکناف کے علاقوں سے ہزاروں عاشقانِ رسولؐ، علماء، مشائخ، دانشوروں، معززین اور محبانِ جامعہ نظامیہ نے شرکت کرتے ہوئے حضور شیخ الاسلامؒ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مولانا محمد محسن پاشاہ قادری نقشبندی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقیؒ نے تصنیف و تالیف اور علمی و تحقیقی کتب کے ذریعے اہلِ سنت والجماعت کے ماننے والوں پر نہ صرف دکن بلکہ برصغیر اور اقطاعِ عالم کے مسلمانوں پر عظیم احسان فرمایا ہے ۔ آپؒ کی تصانیف علم و حکمت ، تحقیق و تدقیق ، عقائدِ حقہ کی وضاحت اور اسلامی تعلیمات کی ترجمانی کا گراں قدر سرمایہ ہیں۔ آپؒ نے اپنے علمی فیضان سے ایسے رجالِ علم تیار کئے کہ جنہوں نے مختلف میدانوں میں دین و ملت کی خوب خوب خدمت انجام دی۔
انہوں نے کہا کہ حضور شیخ الاسلامؒ کی ذاتِ گرامی علم و عمل ، تقویٰ و طہارت ، اخلاص و للہیت ، روحانیت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج تھیں ۔ آپؒ نے جامعہ نظامیہ جیسا عظیم علمی و دینی ادارہ قائم کرکے آنے والی نسلوں کے لئے علم و معرفت کے ایسے دروازے کھول دیئے جن سے آج بھی ہزاروں طلبہ فیض یاب ہورہے ہیں اور ان شآء اللہ عزوجل کل صبح قیام قیامت تک فیضیاب ہوتے رہینگے ۔ جامعہ نظامیہ کا قیام ملتِ اسلامیہ کے لئے ایک عظیم علمی انقلاب اور دکن کی تاریخ کا یادگار کارنامہ ہے۔
مولانا محسن پاشاہ قادری نے قرآنِ حکیم کی آیتِ مبارکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا يَخْشَىٰ اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا
ترجمہ: اللہ کے بندوں میں سے وہی اس سے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ ( سورۃ فاطر: 28 )
اس آیتِ کریمہ سے علماء کے بلند مقام ، علم کی عظمت اور خشیتِ الٰہی کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ اسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ
ترجمہ: علماء انبیاء کے وارث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انبیائے کرام علیہم السلام نے دینار و درہم کی میراث نہیں چھوڑی بلکہ علم کو اپنی میراث بنایا ۔ اسی لئے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمِ دین کو عام کریں ، معاشرے کی اصلاح کریں ، نئی نسل کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت کریں اور امت کو قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح رہنمائی فراہم کریں ۔ حضرت شیخ الاسلامؒ کی پوری زندگی اسی عظیم مشن کی عملی تصویر تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں اصلاحِ معاشرہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ معاشرے میں اتحاد و اتفاق ، باہمی محبت ، احترامِ انسانیت ، والدین کی خدمت ، نوجوانوں کی دینی تربیت ، منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے اجتناب ، مساجد و مدارس سے وابستگی اور اسلامی اخلاق و کردار کو فروغ دینا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے ۔ حضرت شیخ الاسلامؒ کی تعلیمات اور علمی ورثے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ہمیں ان مقاصد کے حصول کے لئے عملی جدوجہد کرنی چاہیئے ۔
*شانِ دکن علامہ الحاج محمد احمد نقشبندی جنیدی کا خطاب*
جلسہ کے اہم مقرر ومہمان خصوصی شانِ دکن علامہ الحاج محمد احمد نقشبندی جنیدی مولوی کامل جامعہ نظامیہ و بانی تحریکِ صدائے اسلام نے اپنے خطاب میں حضرت شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقیؒ کی عظمتِ علمی ، دینی خدمات ، روحانی مقام اور اصلاحی کارناموں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ نے علم و معرفت کے چراغ روشن کرتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کو ایک ایسا علمی و دینی مرکز عطا فرمایا جو آج بھی تشنگانِ علم کی سیرابی کا ذریعہ ہے ۔ آپؒ کی علمی شخصیت ، تصنیفی خدمات ، دینی بصیرت اور روحانی فیضان نے دکن کی علمی و مذہبی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔
علامہ محمد احمد نقشبندی جنیدی نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ کی تعلیمات اور ان کے قائم کردہ علمی ادارے کے مقاصد کو نئی نسل تک پہنچانا علماء کرام ، مشائخ عظام ، دانشوروں اور محبانِ جامعہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اصلاحِ معاشرہ کے لئے دینی تعلیم ، مساجد و مدارس کے استحکام، علماء کی سرپرستی اور نوجوانوں میں اسلامی اقدار کے فروغ کو ناگزیر قرار دیا۔ ان کے خطاب میں حضرت شیخ الاسلامؒ کی علمی عظمت اور ملت کے لئے ان کی بے مثال خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ۔
جلسہ کی تفصیلات اور شرکاء
جلسہ کی صدارت محمد عرفان صاحب ابدال نے کی، جبکہ الحاج وحید میاں صاحب کی زیرِ نگرانی یہ پروگرام منعقد ہوا۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد نعیم قادری نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی، جبکہ محمد حسین صاحب نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ پاک کا نذرانہ پیش کیا۔ نظامت کے فرائض حضرت مولانا محمد عدنان حضرمی مولوی کامل جامعہ نظامیہ نے انجام دی۔ شہہ نشین پر حضرت مولانا سید شاہ خلیل اللہ حسینی برادر سجادہ نشین بارگاہ گلسرم ، برادر سجادہ نشین بارگاہ جلالیؓہ گوگی شریف حضرت مولانا سید شاہ چندا حسینی زبیر بابا مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ ، حضرت مولانا سید شاہ آیت اللہ حسینی چشتی سجادہ نشین بارگاہ قتالیہ قطب الاقطاب حضرت سید شاہ احمد قتال حسینیؒ کولم پلی ،حضرت مولانا حافظ مفتی محمد صادق پاشاہ نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ ، مولوی سید عبید اللہ حسینی کولم پلی کے علاوہ جلسہ میں علماءکرام و مشائخ عظام ، ائمہ کرام و خطباء حضرات ، دانشورانِ ملت ، مذہبی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ مقررین نے اپنے خطابات میں حضرت شیخ الاسلامؒ کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ آپؒ کے قائم کردہ علمی مشن، تعلیمات اور اصلاحی پیغام کو عام کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
آخر میں صلوۃ وسلام کے بعد مولانا مفتی سید شاہ چندا حسینی زبیر بابا مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ نے امت مسلمہ کی سربلندی، ملک میں امن و امان ، ملت کے اتحاد و اتفاق، جامعہ نظامیہ کی ترقی و استحکام اور حضرت شیخ الاسلامؒ کے فیوض و برکات کے تسلسل کے لئے خصوصی دعائیں کی –



