ہاپوڑ میں قلم کا قتل – جمہوریت کے تابوت میں ایک اور کیل
ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
ماہر تعلیم و سماجی جہد کار
ہاپوڑ کے بزرگ صحافی محمد نسیم احمد کا بہیمانہ قتل محض ایک شخص کا قتل نہیں، یہ جمہوریت کے ایک ستون پر کیا گیا وار ہے۔ ہاپوڑ پولیس نے ابتدائی طور پر فلور مل مالک سمیت تین افراد کو گرفتار تو کر لیا، مگر 28 اکتوبر کو یووا شکتی دل اور گرامین پترکار ایسوسی ایشن کا سڑکوں پر اتر آنا اور پولیس کی تفتیش پر سوال اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انصاف کی راہ میں اب بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری میں تاخیر کیوں؟
اس قتل نے ایک خاندان کو اجاڑ دیا ہے۔ جو شخص 20 سال تک بے خوف ہو کر سماج کا آئینہ دکھاتا رہا، آج اس کی بیٹی کی شادی 14 نومبر کو سر پر ہے اور گھر میں کفن دفن کے بعد شادی کے اخراجات کے لیے پیسے تک نہیں۔ یہی ہمارے نظام کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔
اس المناک واقعہ کے تناظر میں چند تلخ حقائق پر غور کرنا ضروری ہے:
1. ایک ستون گرے گا تو عمارت مسمار ہوگی: جمہوریت چار ستونوں پر کھڑی ہے۔ صحافت اس کا چوتھا ستون ہے۔ اگر صحافت کا ستون گر جائے تو مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کے باقی تین ستون بھی بے سہارا ہو کر مسمار ہو جائیں گے۔ نسیم احمد پر حملہ دراصل جمہوریت کی بنیاد پر حملہ ہے۔
2. صحافت ہی اصل پل ہے: کہا جاتا ہے کہ صحافت مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کے درمیان پل کا کام کرتی ہے۔ یہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے عوام کی آواز ایوانوں تک اور ایوانوں کا عمل عوام تک پہنچتا ہے۔ جب اس پل کو ہی بم سے اڑا دیا جائے گا تو عوام اور حکومت کے درمیان صرف اندھیرا رہ جائے گا۔
3. حکومتوں نے آج تک کیا کیا؟ سوال سیدھا ہے کہ حکومتوں نے اب تک صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کیا؟ ضلع اور تحصیل سطح کے صحافی، جنہیں ہم گرامین پترکار کہتے ہیں، سب سے زیادہ خطرہ مول لیتے ہیں، سب سے کم تنخواہ پاتے ہیں۔ ان کے لیے نہ پنشن ہے، نہ انشورنس، نہ تحفظ۔ صرف تعزیتی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔
4. کیا دو اشتہارات سے حق ادا ہوگا؟ حکومت سال بھر میں دو بار یومِ صحافت پر اشتہار دے کر سمجھتی ہے کہ اس نے صحافیوں کا حق ادا کر دیا۔ کیا ایک اشتہار کسی بھوکے پیٹ کو بھر سکتا ہے؟ کیا ایک اشتہار کسی مقتول صحافی کی بیٹی کی شادی کرا سکتا ہے؟ یہ مذاق بند ہونا چاہیے۔
5. کیا صحافیوں کے بیوی بچے نہیں ہوتے؟ کیا صحافی آسمان سے اترتا ہے؟ اس کے بھی بیوی بچے ہیں، اس کا بھی گھر ہے۔ وہ بھی اسی مہنگائی میں جیتا ہے۔ جب وہ سچ لکھنے کی پاداش میں مار دیا جائے تو اس کے بچے کیسے پلیں گے؟ اس کا گھر کیسے چلے گا؟ ہاپوڑ میں آج یہی سوال منہ کھولے کھڑا ہے۔
6. مکانات اسکیم خواب ہی رہی: برسوں سے صحافیوں کے لیے مکانات اسکیم کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ ہر حکومت فائل دکھاتی ہے، اعلان کرتی ہے، مگر آج تک یہ اسکیم شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ صحافی ساری عمر کرائے کے مکان میں رہ کر دوسروں کو گھر دلانے کی خبریں لکھتا رہتا ہے۔
7. صحافی کا مستقبل کیا ہے؟ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ صحافیوں کا مستقبل کیا ہے؟ کیا یہ طے ہو گیا ہے کہ جب چاہے، جو چاہے، جس صحافی کو چاہے قتل کر کے پھینک دے اور پھر چند دن بعد ضمانت پر باہر آ جائے؟ اگر قاتلوں کو عبرت ناک سزا نہ ملی تو کل کوئی اور نسیم احمد مارا جائے گا۔
8. اب منظم تحریک ناگزیر ہے: اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ صحافیوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے ایک منظم، غیر سیاسی اور ریاست گیر تحریک چلائی جائے۔ گرامین پترکار ایسوسی ایشن نے جو مطالبہ کیا ہے – 5 کروڑ معاوضہ، ایک سرکاری نوکری اور سیکیورٹی – یہ بھیک نہیں، یہ حق ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ Journalists Protection Act کو فوری نافذ کرنا ہوگا۔
ہم حکومت اتر پردیش سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہاپوڑ کیس کے تمام مفرور ملزمان کو 48 گھنٹے میں گرفتار کر کے فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے، اور شہید نسیم احمد کے خاندان کی فوری مالی مدد کر کے ان کی بیٹی کی شادی کو سرکاری ذمہ داری پر انجام دیا جائے۔
قلم اگر خاموش ہو گیا تو تاریخ ہم سب کو معاف نہیں کرے گی۔



