جنرل نیوز

حضرت شیخ الاسلام والمسلمین عارف باللہ امام الحافظ محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگؒ کی علمی، دینی، اصلاحی اور ملی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

حضرت شیخ الاسلام والمسلمین عارف باللہ امام الحافظ محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگؒ کی علمی، دینی، اصلاحی اور ملی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری

حیدرآباد، 3 نومبر (پریس ریلیز): خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری نے عرس سراپا اقدس حضرت شیخ الاسلام والمسلمین عارف باللہ امام الحافظ محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمۃ والرضوان، بانی جامعہ نظامیہ کے موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخِ اسلام کے افق پر بعض ایسی نابغۂ روزگار شخصیات جلوہ گر ہوتی ہیں جن کی علمی بصیرت، روحانی عظمت، دینی حمیت اور اصلاحی جدوجہد کے نقوش زمانے کے گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑتے۔ ایسی ہی عبقری شخصیت حضرت بانی جامعہ نظامیہؒ کی ہے، جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں، غیر معمولی علمی مقام اور اخلاص پر مبنی جدوجہد سے دکن ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام میں علم و معرفت کی ایک روشن تاریخ رقم کی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت فضیلت جنگؒ محض ایک عالمِ دین، محدث اور فقیہ ہی نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر، صاحبِ بصیرت مصلح، روحانی رہنما اور ملت کے مستقبل پر گہری نظر رکھنے والے مدبر بھی تھے۔ آپ نے ایسے دور میں دینی علوم کی اشاعت و ترویج کا عظیم بیڑا اٹھایا جب مسلمانوں کو علمی، تہذیبی اور فکری سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا تھا۔ آپ نے محسوس کیا کہ ملت کی حقیقی سربلندی کا راستہ علمِ دین کی حفاظت، اسلامی اقدار کے فروغ اور ایسی علمی درسگاہوں کے قیام سے وابستہ ہے جو آنے والی نسلوں کی دینی و اخلاقی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں۔ اسی بلند مقصد کے تحت آپ نے جامعہ نظامیہ کی بنیاد رکھی، جو آج بھی علومِ اسلامیہ کی ترویج، تحقیق، تدریس اور اشاعت کا ایک معتبر مرکز ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری نے کہا کہ جامعہ نظامیہ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ حضرت بانی جامعہ نظامیہؒ کے اخلاص، دوراندیشی اور علمی مشن کی زندہ یادگار ہے۔ اس ادارے نے برصغیر میں علومِ قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، عربی زبان و ادب اور دیگر اسلامی علوم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہاں سے فارغ ہونے والے علماء، فضلاء، مفتیانِ کرام اور اہلِ علم نے ملک و بیرونِ ملک دینی خدمات انجام دے کر اس علمی ورثے کو آگے بڑھایا ہے۔ بلاشبہ جامعہ نظامیہ کی تاریخ حضرت فضیلت جنگؒ کی علمی بصیرت اور ملت کے تئیں ان کی بے لوث خدمات کی روشن شہادت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو اصلاحِ معاشرہ اور انسانیت کی فلاح و بہبود کا جذبہ تھا۔ آپ نے تعلیم کو محض معلومات کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے کردار سازی، تزکیۂ نفس، اخلاقی بلندی اور معاشرتی استحکام کا بنیادی وسیلہ قرار دیا۔ آپ کی فکر کا محور ایسا صالح معاشرہ تھا جس میں علم کے ساتھ عمل، عبادت کے ساتھ خدمت، شریعت کے ساتھ اخلاق اور دینی وابستگی کے ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

مولانا نے کہا کہ حضرت بانی جامعہ نظامیہؒ کی تعلیمات سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کے علمی، اخلاقی اور تہذیبی تشخص کے تحفظ پر ہوتا ہے۔ اگر نئی نسل کو دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ شعور فراہم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی تہذیبی شناخت کی حفاظت کرسکتی ہے بلکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ آج کے حالات میں حضرت فضیلت جنگؒ کی علمی و اصلاحی فکر سے استفادہ کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلامؒ کی زندگی علماء، اساتذہ، طلبہ اور ملت کے ذمہ داران کے لیے ایک روشن نمونہ ہے۔ آپ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم کی عظمت کا تقاضا صرف اس کا حصول نہیں بلکہ اس کی اشاعت، اس پر عمل اور اس کے ذریعے انسانیت کی رہنمائی بھی ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت، علومِ اسلامیہ کے تحفظ اور امت کی علمی و روحانی سربلندی کے لیے وقف کردی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا نام آج بھی اہلِ علم و دانش کے حلقوں میں عقیدت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری نے کہا کہ عرس کے مواقع محض کسی بزرگ کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ ان کی حیاتِ مبارکہ، علمی افکار، دینی خدمات اور اصلاحی پیغام کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کا عہد کرنے کے مواقع بھی ہوتے ہیں۔ حضرت فضیلت جنگؒ سے حقیقی عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم علمِ دین سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، مدارس و جامعات کی سرپرستی کریں، نئی نسل میں دینی و اخلاقی شعور پیدا کریں اور معاشرے میں امن، محبت، اخوت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔

انہوں نے اس موقع پر دعا کی کہ اللہ رب العزت حضرت شیخ الاسلام والمسلمین عارف باللہ امام الحافظ محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمۃ والرضوان کے درجات کو مزید بلند فرمائے، ان کے فیوض و برکات سے امتِ مسلمہ کو مستفید فرمائے، جامعہ نظامیہ کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور اس عظیم علمی و دینی ورثے کو نسل در نسل جاری و ساری رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button