جنرل نیوز

اسکول ڈراپ آؤٹس مسلم قوم کا سب سے بڑا المیہ – سرسید ڈے بین الاقوامی سیمنار سے ملک و بیرون ملک کے ماہرین کا خطاب

کے این واصف، حیدرآباد

مسلم ڈراپ آؤٹس طلباو طالبات کے تعلیمی سلسلے کو دوبارہ جاری رکھنا سرسید کے مشن کا تسلسل ہے۔ مسلم تعلیمی اداروں کے معیار پر توجہ ناگزیر۔ مہنگی شادیوں پر اڑانے کی بجائے بچوں کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرین۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے سرسید ڈے کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمنار سے خطاب کے دوران کیا۔ یہ سمینار میڈیا پلس فاؤنڈیشن حیدرآباد کی جانب سے میڈیا پلس آڈیٹوریم، گن فاؤنڈری میں منعقد کیا گیا۔ جس میں علیگیرینز نے زوم کے ذریعہ مختلف ممالک سے اظہار خیال کیا۔ سیمنار کی صدارت ڈاکٹر محمد عبدالقدیر چیرمین شاہین گروپ آف ایجوکیشن نے کی۔ جبکہ شہ نشین پر ڈاکٹر ساجد علی ڈائرکٹر اقراء مشن اسکول، ممتاز دانشور ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ، ڈاکٹر سید خالد شہباز اور ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنیدموجود تھے۔ یہ سیمنار بعنوان “علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کل آج کل“ منعقد کیا گیا تھا۔

 

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر گواہ نے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے حیدرآباد کی مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی اور حیدرآباد کے دیگر مسلم اداروں کو جوڑنا چاہیے۔ ڈاکٹر پرویز نے کہا کہ انوار العلوم کالج کو جنوب کا علی گڑھ کہا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے معاون جناب محمد ساجد علی ڈائرکٹر اقراء مشن اسکول، اے ایم یو کے تیئں انکے جذبے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ساجد صاحب کو علی گڑھ سے جنون کی حد تک محبت ہے۔ کانفرنس کا آغاز محمد شجاعت علی کی قرأت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد علیگڑھ کا ترانہ پیش کیا گیا۔ کانفرنس کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سید خالد شہباز نے اپنے ابتدائی کلمات میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور پینل کے شرکاء کا تعارف پیش کیا۔

 

اس موقع پرمخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹرمحمد ساجد علی نے کہا کہ آج سر سید احمد خان جنہوں نے اس ادارے کی بنیاد ڈالی، علیگڑینس سے سوال کررہے ہیں کہ جس عظیم ادارے کی بنیاد انہو ں نے رکھی تھی اُس کی بقاء اور ترقی کیلئے فارغین اے ایم یو نے کیا کیا یا کیا کررہے ہیں۔ اس ملّی ادارے کیلئے سرسید کے خواب کی تکمیل ہم علیگڑینس کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہندوستان بھر میں مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم سے تعلق تفصیلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ شمالی ہند میں مسلمانوں کا تعلیمی معیار بے حد غیر تشفی بخش ہے جبکہ جنوب میں اس کی حالت کسی حد تک بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ قوم کے اُن بچوں پر ہونی چاہیے جو اسکول کی دہلیز تک نہیں پہنچے نیز ان بچوں کو اسکول واپس لانا جو درمیان میں اسکول سے ڈراپ آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ملّی تعلیمی ادارے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اس طرف توجہ نہ کی گئی تو مستقبل ہندوستان میں مسلم قوم غیر تعلیم یافتہ قوم کے زمرے میں آجائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ آرٹیفشیل انٹلی جنس کا دور ہے اس جانب ہماری خصوصی توجہ ہونی چاہیے۔ ورنہ ہم مستقبل میں دیگر اقوام سے مقابلہ نہیں کرپائین گے۔

 

“سرسید احمد خان اکسیلنس ایوارڈ” یافتہ ڈاکٹر محمدعبدالقدیر چیرمین شاہین گروپ نے کہا کہ آج علیگیرین دنیا بھر میں بڑی بڑی ذمہ داریاں پر فائز ہیں ہیں۔ انہوں کہا کہ آج کا دشوار کن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملی ادارے معیار سے محروم ہورہے ہیں۔ ان کے ذمہ داران آپس عدم اتحاد اور بے اعتمادی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ آج سے چھ سو سال قبل محمود گاواں یونیورسٹی کا قیام بیدر میں عمل میں آیا تھا جس میں اُس وقت دنیا کے 25ممالک کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے، جہاں پر دنیی و دنیوی تعلیم کا اعلیٰ معیاری انتظام تھا۔ اگر ہمارے معیارِ تعلیم کا سلسلہ نہ ٹوٹتا اور ہمارے قدیم تعلیمی ادارہ بند نہ ہوتے تو ہم دنیا کو موجودہ دور کی سائنسی ایجادات صدیوں پہلے دے چکے ہوتے۔

 

معروف دانشور اور شعلہ بیان مقرر ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے اپنے خطاب ابتداء یوں کی کہ اب تک مقررین نے آج کے مسائل پر گفتگو کی مگر وہ ماضی کی بات سے اپنی گفتگو کا آغاز کریں گے۔ سرسید احمد کی پیدائش ایک ایسے وقت ہوئی جب ہندوستان ناامیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبہ ہواتھا۔ 1857کی افراتفری بعد جو مایوس کن حالات پیدا ہوئے تھے خصوصاً مسلم قوم پر، اُس وقت سرسید نے سونچا کے اب تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہم کو اس پستی اور مایوسی کے اندھیرے سے باہر نکال سکتا ہے۔ ڈاکٹر مجاہد نے بتایا کہ وسائل اور اسباب قوم کی ترقی کے ضامن نہیں ہوتے بلکہ حوصلوں سے قومیں ترقی کیا کرتی ہیں۔ سرسید کا مشن روایتی تعلیم سے مسلمانوں کو عصری تعلیم کی طرف لانا تھا۔سرسید نے مسلمانوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت پر زیادہ زور دیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا ”اے دوستو مجھ کو زیادہ خوش کرنے والی بات یہ نہیں ہے کہ کسی مسلمان لڑکے نے بی اے، ایم اے کی ڈگری حاصل کرلی بلکہ میری خوشی قوم کو قوم بنانے میں ہے۔ سرسید نے اُس زمانے میں مسلمانوں کی تعلیمی بیداری اور معاشرتی اصلاح کی تحریک کا آغاز کیا تھا یہ دور کچھ کم پُر آشوب نہیں تھا۔ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ختم ہوچکا تھا، سلطنت مغلیہ پر زوال آچکا تھا، مسلمانوں کی تہذیب و تمدن سب کچھ ختم ہوگئی تھی۔

 

ایسے دورِ مایوسی میں سرسید جیسی عبقری شخصیت نے اس مایوسی کے دور میں امید کی کرن روشن کی اور انگلستان سے آنے کے بعد انہوں نے مدرسۃ العلوم قائم کیا جو بعد میں اے ایم او کالج کہلایا، اور پھر یہی کالج 1920میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں منظر عام پر آیا۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ یہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کا ایک زبردست انقلاب تھا۔ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں میں ایک اجتماعی تعلیمی شعور بیدار ہوا اور آج پوری دنیا میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ک فارغ التحصیل طلبہ پائے جاتے ہیں۔قابلِ غور بات یہ ہے کہ ملک کی آزادی کے 75سال گزرنے کے باوجود مسلمانوں نے کوئی ایسا اعلیٰ تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا جو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرح قوم و ملت میں تعلیم کو عام کرسکے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان ملک میں سب سے زیادہ تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے۔ اس کے دور کرنے کا واحد ذریعہ مسلمانوں کی نو خیز نسل کو تعلیم سے جوڑنا ہے۔

 

اس اجلاس میں زوم کے ذریعہ جڑنے اور اظہارِ خیال کرنے والوں میں امریکہ سے ڈاکٹر قطب الدین، دلّی سے جناب شاہد صدیقی ایڈیٹر نئی دنیا، ریاض سعودی عرب سے ڈاکٹر ندیم ترین، نیوزی لینڈ سے محمد اطہر، پروفیسر اکبر مسعود وائس چانسلر بابا غلام شاہ یونیورسٹی کشمیر، پروفیسر اختر الواسع سابق واپس چانسلر، امریکہ سے ڈاکٹر سید کمال ناسا سائنٹسٹ، گلبرگہ سے جناب میر ولایت علی رجسٹرار خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی، علیگڑھ سے ڈاکٹر محسن رضا علیگ شامل تھے۔ آخر میں شرکاء میں سے چند سابق علیگڑینس و دیگر جن میں ڈاکٹر نجم الدین، ڈاکٹر معین الدین احمر، ڈاکٹر انور خان، ڈاکٹر ناظم الدین، جناب سید جعفر حسین ایڈیٹر صدائے حسینی، ڈاکٹر محمد ہلال اعظمی اور سینئر صحافی کے این واصف شامل تھے۔

 

آخر میں ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید جوائنٹ ایڈیٹر گواہ کے ھدیہ تشکر پر اور دعا پر اس کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button