جرائم و حادثات

ہندو تاجر کے بیٹے کو محبت کے جال میں پھنساکر مبینہ طور پر ’مسلم ‘ بنانے کا الزام – خاتون سمیت 10افراد کے خلاف مقدمہ

شاملی (اتر پردیش): اتر پردیش کے ضلع شاملی میں مذہب تبدیلی اور مبینہ سازش کے الزام میں ایک خاتون سمیت دس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ ایک معروف دوا تاجر کے اکلوتے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹے آیوش ملک کو مبینہ طور پر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت محبت کے جال میں پھنساکر اس کا نام اور شناخت تبدیل کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔

 

مقدمے کے مطابق آیوش ملک کو بعد میں ’محمد علی‘ اور ’عثمان انصاری‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پورے معاملے کے پیچھے کروڑوں روپے کی جائیداد ہڑپ کرنے کی سازش بھی شامل تھی، جبکہ اس میں مبینہ طور پر غیر ملکی اور آن لائن مذہبی مواد کے ذریعے ذہنی طور پر متاثر کرنے (برین واش) کا عنصر بھی شامل رہا۔

 

پولیس نے متاثرہ خاندان کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمہ خاتون جم ٹرینر چاندنی قریشی اور اس کے والد اسلام قریشی کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تین مذہبی شخصیات سمیت مجموعی طور پر 10 افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ شاملی کے دایانند نگر اور قاضی واڑہ علاقے سے جڑا ہوا ہے۔ متاثرہ کے والد دیوراج ملک، جو کیمسٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں، نے پولیس کو دی گئی شکایت میں کہا کہ ان کا بیٹا آیوش ملک تقریباً پانچ سال قبل ایک جم میں جانے لگا تھا جہاں اس کی ملاقات چاندنی قریشی سے ہوئی۔

 

الزام ہے کہ چاندنی نے جان بوجھ کر آیوش کو اپنے محبت کے جال میں پھنسا لیا اور بعد ازاں اس پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ شکایت کے مطابق تقریباً چار سال قبل خفیہ طور پر آیوش کا نکاح کروایا گیا اور اس کی شناخت تبدیل کر دی گئی۔

 

شکایت میں کہا گیا ہے کہ آیوش کا نام تبدیل کرکے ’عثمان انصاری‘ اور ’رحمان‘ رکھا گیا۔ گزشتہ چند ماہ میں اس کے رہن سہن میں واضح تبدیلی آئی، اس نے داڑھی رکھ لی اور ٹوپی و روایتی لباس پہننا شروع کر دیا۔

 

یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس کی ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں وہ مسجد کے اندر نماز ادا کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے، جس کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔

 

متاثرہ خاندان نے الزام لگایا ہے کہ ملزمین نے نہ صرف ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے اس سے مالی فائدہ بھی حاصل کیا جا رہا تھا۔ شکایت کے مطابق جب خاندان نے اس پر اعتراض کیا تو انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے مخصوص مذہبی تقاریر دکھا کر نوجوان کو متاثر کیا گیا۔ شکایت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی اسپیکر کے مواد کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے تفتیش کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

 

شاملی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ مجموعی طور پر 10 افراد کے خلاف مذہب تبدیلی، دھمکی، فراڈ اور غیر قانونی مالی لین دین سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دو مرکزی ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

 

پولیس نے اس پورے معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دے دی ہے تاکہ ہر پہلو کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button