جرائم و حادثات

آم کے باغ میں لاکھوں روپے نقصان اور بھاری قرض سے پریشان کسان نے گھر والوں کو قتل کرنے کے بعد خود بھی خودکشی کرلی

حیدراباد –  آم کے باغ میں لاکھوں روپے کے نقصان اور شدید قرض کے بوجھ سے پریشان ایک کسان نے پہلے اپنی بیوی اور بیٹی کا قتل کردیا، اس کے بعد خود بھی خودکشی کرلی۔ یہ افسوسناک واقعہ تلنگانہ کے ونپرتی ضلع میں پیش آیا۔

 

ضلع ونپرتی میں قرض اور مالی پریشانیوں سے تنگ آکر ایک کسان نے انتہائی اقدام کرتے ہوئے پہلے اپنی بیوی اور دو بچوں کو باندھ کر آم کے باغ میں موجود پانی کے ٹینک میں پھینک دیا اور بعد ازاں خود پھانسی لے کر خودکشی کرلی۔ اس واقعے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔

 

پولیس اور رشتہ داروں کے مطابق محبوب نگر ضلع کے دیورکدرہ منڈل کے دوکور گاؤں سے تعلق رکھنے والا نرسمہا ونپرتی ضلع کے قلعہ گھن پور منڈل کے سلکیلاپور میں آم کا باغ لیز پر لے کر کاشتکاری کر رہا تھا اور وہیں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔

 

بتایا جاتا ہے کہ آم کی فصل سے مناسب پیداوار نہ ملنے کے باعث نرسمہا ایک کروڑ 20لاکھ قرض میں ڈوب گیا تھا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے ایک خانگی بینک میں اپنا مکان بھی رہن رکھا تھا، تاہم گزشتہ دو ماہ سے قسطیں ادا نہ کرنے پر مالیاتی ادارے کی جانب سے اس پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

 

پولیس کے مطابق مبینہ ہراسانی سے تنگ آکر نرسمہا نے پہلے اپنی بیوی، بیٹے اور بیٹی کو رسیوں سے باندھ کر باغ میں موجود پانی کے سمپ میں پھینک دیا، بعد ازاں خود پھانسی لے لی۔

 

خودکشی سے قبل نرسمہا نے ایک سیلفی ویڈیو بھی ریکارڈ کی، جس میں اس نے کہا کہ قرض کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے اس پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ اس نے الزام لگایا کہ جب وہ قانونی مشورہ لینے وکیل کے پاس گیا تو اسے تذلیل کا سامنا کرنا پڑا۔

 

ویڈیو میں نرسمہا نے کہا کہ قرض کی وجہ سے اس پر شدید ذہنی دباؤ تھا اور اسے مسلسل پریشان کیا جا رہا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کے گھر کو مہر بند کیا گیا اور گھر میں موجود سونا چاندی بھی لے لیا گیا۔

 

اس نے مزید کہا کہ قرض لینے والوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی کو دھوکہ نہیں دے رہا تھا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button