بہن کے قتل کا بدلہ – نظام آباد ہری بابو قتل کیس میں برادرِ نسبتی سنتوش کورٹلہ پولیس اسٹیشن میں خودسپرد

’’میرے لیے سب آواز اٹھائیں، مجھے سزا سے بچانے کی کوشش کریں‘‘
’’میری بہن کے ساتھ جو ہوا، وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو، اسی لیے اسے قتل کیا‘‘
نظام آباد میں یوٹیوبر ویشنوِی کے شوہر ہری بابو کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قتل کے مرکزی ملزم اور ہری بابو کے برادرِ نسبتی سنتوش نے پولیس کے سامنے خودسپردگی کردی۔ خودسپردگی سے قبل سنتوش نے ایک سیلفی ویڈیو بھی جاری کی، جس میں اس نے ہری بابو کو خود قتل کرنے کا اعتراف کیا۔
سنتوش نے ویڈیو میں کہا کہ اس نے اپنی بہن کو قتل کرنے والے ہری بابو کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جس طرح اس کی بہن کے ساتھ ہوا، ویسا کسی اور کے ساتھ ہو۔ اس نے کہا کہ اسے ہری بابو کو قتل کرنے پر افسوس نہیں بلکہ خوشی ہے۔
سنتوش نے مزید کہا کہ وہ کئی دنوں تک اس امید میں انتظار کرتا رہا کہ کانگریس حکومت اسے انصاف دلائے گی، لیکن جب اسے انصاف نہیں ملا تو اسے یہ قدم اٹھانا پڑا۔
اس نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’میں آپ کے قدموں میں جھکتا ہوں، آپ سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ میرا ساتھ دیں اور مجھے جلد از جلد جیل سے باہر نکلوائیں۔ میری بیوی اور بچے ہیں۔‘‘
8 سیکنڈ میں 9 وار
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق، نظام آباد کے آر آر چوراہے پر ہری بابو پر سڑک کے درمیان سنتوش نے انتہائی بے رحمی سے چاقو سے حملہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ محض 8 سیکنڈ کے دوران ہری بابو پر چاقو کے 9 وار کئے گئے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
واقعے کے بعد سنتوش وہاں سے فرار ہوگیا۔ بعد ازاں نصف شب کے بعد وہ براہِ راست کورٹلہ پولیس اسٹیشن پہنچا اور پولیس کے سامنے خودسپردگی کرتے ہوئے جرم کا اعتراف کیا۔
کورٹلہ پولیس نے سنتوش کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ بعد میں کیس کی مزید کارروائی کے لئے اسے نظام آباد پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ پولیس نے ہری بابو کے قتل سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات تیز کردی ہیں۔



