ایجوکیشن

حجاب پہننے والی طالبات سماجی دقیانوسی سوچ کو توڑتے ہوئے معاشرے کے لیے مثال بن رہی ہیں: عائشہ خانم

بنگلورو ( شبیر احمد ) : کرناٹک میڈیا اکیڈمی کی صدر عائشہ خانم نے نوجوان مسلم طالبات کے اعتماد، صلاحیت اور عزم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننے والی طالبات تعلیم، کھیل اور قیادت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے معاشرے کے لیے رول ماڈل بن رہی ہیں، جبکہ اپنی تہذیبی شناخت کو بھی فخر کے ساتھ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

 

وہ عباس خان خواتین کالج بنگلورو کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔

 

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کالج کا یہ دورہ ان کے لیے بے حد متاثر کن ثابت ہوا۔

 

انہوں نے کہا، میں طالبات میں حوصلہ اور تحریک پیدا کرنے کے مقصد سے کیمپس میں داخل ہوئی تھی، لیکن آخر میں انہی طالبات نے مجھے مکمل طور پر متاثر کر دیا۔

 

طالبات کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے عائشہ خانم نے کہا کہ یہ لڑکیاں حجاب کے ساتھ یونیفارم پہن کر برسوں پرانی سماجی دقیانوسی سوچ کو چیلنج کر رہی ہیں اور کراٹے، کرکٹ، ہیومینٹیز اور بزنس لیڈرشپ جیسے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

 

انہوں نے کہا، یہ نوجوان طالبات اپنی پسند اور ثقافت کی حقیقی نمائندہ ہیں۔ ان کی صلاحیت، نظم و ضبط اور اعتماد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تعلیم کے ذریعے خواتین کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے اور معاشرہ مثبت تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

 

عائشہ خانم نے کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ ایس۔ ودیا کی بھی ستائش کی اور کہا کہ وہ طالبات کی مسلسل حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایسا ماحول فراہم کر رہی ہیں جہاں نوجوان خواتین میں قیادت اور خود اعتمادی پروان چڑھ رہی ہے۔

 

انہوں نے سی ایم اے انتظامیہ کو خواتین کی تعلیم اور بااختیاری کے لیے خدمات انجام دینے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تعلیمی ادارے زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو تعلیم اور خود مختاری فراہم کر کے مستقبل کو روشن بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں انتظامیہ کی مسلسل کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہوں۔

 

پروگرام میں ثقافتی سرگرمیوں اور طالبات کے ساتھ تبادلۂ خیال کے سیشن بھی منعقد کیے گئے، جن میں طالبات نے تعلیم، کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں میں اپنی کامیابیوں کا مظاہرہ کیا۔

خواتین کی بااختیاری کے موضوع پر اپنے پیغام میں عائشہ خانم نے کہا، بااختیاری ہماری صلاحیتوں اور ہمارے انتخاب میں پوشیدہ ہے۔ ان نوجوان قائدین کو دیکھ کر مستقبل روشن اور امید افزا محسوس ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button