تخت سے پھانسی تک! بشار الاسد کو شام کی عدالت نے سنائی سزائے موت

شام کی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد اور ان کے دور حکومت کے اہم سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو سزائے موت سنادی ہے۔ دمشق کی فوجداری عدالت نے بشار الاسد کو قتل کے الزامات میں، جبکہ عاطف نجیب کو قتل اور تشدد کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے یہ سزا سنائی۔
عدالت کا یہ فیصلہ بشار الاسد کی غیر موجودگی میں سنایا گیا، کیونکہ وہ شام سے فرار ہونے کے بعد روس میں مقیم ہیں۔ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں سابق حکومت کے اہم عہدیداروں کے خلاف مقدمات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔عاطف نجیب بشار الاسد کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں اور 2011 میں شام میں عوامی احتجاج شروع ہونے کے وقت جنوبی صوبہ درعا میں سیاسی سکیورٹی کے سربراہ تھے
۔ انہیں درعا میں حکومت مخالف احتجاج کے خلاف کارروائیوں اور شہریوں پر مبینہ تشدد کے معاملے میں اہم ملزم سمجھا جاتا ہے۔عاطف نجیب کو جنوری 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اپریل 2026 میں دمشق کی فوجداری عدالت میں سابق اسد حکومت کے اہم عہدیداروں کے خلاف عوامی مقدمات کا آغاز ہوا، جس میں عاطف نجیب بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے،
جبکہ بشار الاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد کے خلاف مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چلایا گیا۔عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت شام میں سابق اسد حکومت کے خلاف جاری احتسابی کارروائی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔
اس مقدمے اور دیگر مقدمات میں سابق حکومت کے عہدیداروں پر شہریوں کے قتل، تشدد اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔



