نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی اقوام متحدہ میں واک آؤٹ – درجنوں ممالک کے مندوبین ہال سے باہر چلے گئے
حیدراباد – 25 ستمبر ( اردو لیکس ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے جمعرات کو اقوام متحدہ میں اسرائیل کی علاقائی کارروائیوں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کا جواب دینے کی کوشش کی۔ ان کے خطاب کے دوران احتجاجاً درجنوں مندوبین جنرل اسمبلی کے ہال سے باہر چلے گئے۔
نیتن یاہو کے خطاب کے لئے روسٹرم پر پہنچتے ہی کئی ممالک کے نمائندے احتجاجاً ہال سے باہر نکل گئے۔ اس پر نیتن یاہو نے انہیں ’’اخلاقی بزدل‘‘ قرار دیا۔ گیلری میں موجود ان کے حامیوں نے عبرانی زبان میں ’’اسرائیل کے عوام زندہ ہیں‘‘ کے نعرے لگائے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جیسے ہی خطاب شروع کیا، جنرل اسمبلی کے ہال میں موجود متعدد ممالک کے مندوبین احتجاجاً باہر نکلنے لگے۔ دوسری جانب ہال کی گیلری میں موجود نیتن یاہو کے حامیوں نے ان کا خیرمقدم کیا۔ نیتن یاہو نے باہر جانے والے مندوبین کو ’’جعلی انسانی حقوق کے علمبردار‘‘ قرار دیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ جب ایرانی حکمران بے گناہ ایرانی شہریوں میں سے ہزاروں افراد کو قتل اور زخمی کر رہے تھے، اس وقت آپ کہاں تھے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اگر کوئی اور اخلاقی بزدل ابھی تک اس ہال میں موجود ہے تو براہِ کرم وہ بھی باہر چلا جائے۔‘‘
اب تک جمعرات کو نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ہال سے واک آؤٹ کرنے والے تمام ممالک کے مندوبین کی تصدیق شدہ فہرست سامنے نہیں آئی ہے۔ متعدد ذرائع نے بتایا کہ ’’درجنوں‘‘ مندوبین نے احتجاجاً ہال چھوڑ دیا۔
کنونشن سینٹر سے سامنے آنے والی تصاویر سے معلوم ہوا کہ سعودی عرب، سوڈان، تیونس، ازبکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، الجزائر، ایران، ملائیشیا، مونٹی نیگرو اور کرغزستان سمیت کئی ممالک کی نشستیں نیتن یاہو کی تقریر کے دوران خالی تھیں۔
اردن، لیبیا، مارشل آئی لینڈز اور ماریشس کی نشستیں بھی خالی نظر آئیں۔ تاہم، ان میں سے کئی ممالک کے صرف ایک مندوب اجلاس میں موجود تھے، جبکہ دیگر نمائندے احتجاجاً ہال سے باہر چلے گئے۔




