نیپال میں اچانک سیلاب کی تباہی – گاوں پانی میں بہہ گیا ؛ ایک ہزار افراد لاپتہ
نیپال کے رسوا ضلع میں چہارشنبہ کی صبح اچانک آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے میں ایک پورا گاؤں بہہ گیا، جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لاپتہ افراد کی حالت کے بارے میں تاحال کوئی واضح اطلاع نہیں مل سکی۔
یہ واقعہ نیپال-تبت سرحد کے قریب سیاپرو بیسی اور ٹموری علاقوں میں صبح تقریباً 9 بجے پیش آیا۔ پہاڑی علاقے میں واقع ان علاقوں سے بھوٹے کوشی دریا گزرتا ہے، جو تبت سے نیپال کی جانب بہتا ہے۔ دریا میں اچانک پانی کی سطح بڑھنے اور نشیبی وادی میں تیز بہاؤ کے باعث شدید سیلاب آیا۔
سیلابی ریلے نے گاؤں کے ساتھ حکومت کے ایک زیرِ تعمیر منصوبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔
اطلاع ملتے ہی امدادی و ریسکیو ٹیموں نے کارروائی شروع کردی، جو تاحال جاری ہے۔ حکام نے آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو محتاط رہنے اور مزید ہدایات تک محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
نیپال حکومت نے دریائے تریشولی کے اطراف کے علاوہ نواکوٹ، دھادنگ، چتوان اور گورکھا اضلاع کے عوام کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکام کے مطابق سیلاب میں لاپتہ افراد کی تلاش اور بچاؤ کا کام جاری ہے، تاہم متاثرین کے بارے میں مکمل معلومات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔




