’’اسلام کو بلڈوزر، انکاؤنٹر اور ظلم سے ختم نہیں کیا جاسکتا‘‘، رحمت للعالمین ﷺ جلسہ میں بیرسٹر اویسی کا دوٹوک پیغام

حیدرآباد: کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات سے مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسلام کو انکاؤنٹر، بلڈوزر اور ظلم و جبر کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا، تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے طاقتور حکمران اور سلطنتیں ختم ہوگئیں، لیکن اسلام آج بھی زندہ ہے۔
دارالسلام میں مجلس کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ رحمت للعالمین ﷺ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھانے کی تاکید فرمائی: رسول اکرم ﷺ سے محبت، اہل بیت سے محبت اور قرآن مجید کی تعلیم۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلیمات پر عمل سے مسلمانوں کی دنیا و آخرت سنور سکتی ہے اور معاشرہ بھی بہتر ہوسکتا ہے۔
جلسے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء وقفے وقفے سے ’’نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر‘‘ اور ’’نعرۂ رسالت، یا رسول اللہ ﷺ‘‘ کے نعرے بلند کرتے رہے۔ بارش کے پیش نظر دارالسلام کے وسیع میدان میں بڑا جرمن ٹینٹ نصب کیا گیا تھا، جبکہ شرکاء کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر بڑی ایل ای ڈی اسکرینیں بھی لگائی گئی تھیں۔ خواتین کے لیے پارٹی دفتر کے سامنے شیڈ کے ساتھ علیحدہ نشستوں کا انتظام کیا گیا تھا۔
اس موقع پر مہمان مقرر مولانا مفتی دلشاد احمد قادری، شیخ الحدیث مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں، مولانا مفتی خلیل احمد، امیر جامعہ نظامیہ اور دیگر علماء و مشائخ نے بھی خطاب کیا۔
بیرسٹر اویسی نے مسلمانوں کو ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرامؓ نے سخت ترین حالات میں بھی دین کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ چنگیز خان نے بغداد سمیت کئی علاقوں کو تباہ کیا، لیکن بعد میں اس کی اولاد نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح سوویت یونین نے مدارس پر پابندیاں عائد کیں اور اسلام پر سختیاں کیں، مگر سوویت یونین ختم ہوگیا جبکہ مدارس آج بھی قائم ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو موجودہ حالات سے گھبرانے کے بجائے اپنے ایمان اور دین پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔
مجلس صدر نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حجاب سے متعلق فیصلے پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسلام میں کیا چیز ضروری ہے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ عدالت کیسے کرسکتی ہے؟ ان کے مطابق حجاب سے متعلق ایسا فیصلہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے وندے ماترم سے متعلق قانون پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس اقدام سے رابندر ناتھ ٹیگور، نیتاجی سبھاش چندر بوس اور مہاتما گاندھی کے موقف کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اویسی نے سوال کیا کہ کیا نریندر مودی ان تینوں قومی رہنماؤں سے زیادہ دانشور ہیں؟
اسدالدین اویسی نے کہا کہ مسلمان بھارت کی عزت اور محبت کرتے ہیں، لیکن عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل ایمان اس خالق کو اپنا خدا مانتے ہیں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، اس لیے بھارت کو خدا نہیں مانا جاسکتا۔
انہوں نے گجرات، آسام اور اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یکساں سول کوڈ کے نام پر مسلمانوں کے خاندانی قوانین میں مداخلت کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے نکاح، طلاق اور وراثت سے متعلق مذہبی قوانین کو ہندو پرسنل لا کے قوانین سے تبدیل کرنے کی کوشش قابل قبول نہیں۔
جلسے میں مجلس کے قومی ترجمان و صدر یوتھ مجلس بہار عادل حسن ایڈوکیٹ، بہار کے رکن اسمبلی سرور عالم، یا قوت پورہ کے رکن اسمبلی جعفر حسین معراج، ملک پیٹ کے رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلہ، کاروان کے رکن اسمبلی کوثر محی الدین، چارمینار کے رکن اسمبلی میر ذوالفقار علی، بہادرپورہ کے رکن اسمبلی محمد مبین، نامپلی کے رکن اسمبلی محمد ماجد حسین، مجلس کے رکن کونسل مرزا رحمت بیگ قادری، سلطان صلاح الدین اویسی، سید منیر الدین احمد مختار، مولانا مفتی شمار احمد، ایس اے حسین انور، عباس سمیع، غلام احمد حسین، اقبال ملتانی سمیت دیگر قائدین اور علماء موجود تھے۔




