آن لائن ڈیٹنگ ایپس کا استعمال کرنے والی خواتین کے ساتھ گھناؤنا کھیل۔68 سالہ بوڑھے نے 58 خواتین کو بنایا ہوس کا شکار
File photo
نئی دہلی ۔ عام طور پر جب ہم کسی 68 سالہ عمر رسیدہ شخص کے بارے میں سوچتے ہیں تو ذہن میں ایک ایسے بزرگ کا تصور ابھرتا ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد گھر پر آرام سے زندگی گزار رہا ہو لیکن جرمنی میں ایک ایسا حیرت انگیز معاملہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو حیران کرکے رکھ دیا ہے۔
جرمنی میں ایک 68 سالہ بوڑھے نے آن لائن ڈیٹنگ ایپس استعمال کرنے والی خواتین کو نشانہ بنایا۔ جرمن پراسیکیوٹرس نے اس شخص کے خلاف مختلف ڈیٹنگ پلیٹ فارمس کے ذریعے خواتین سے دوستی کرنے انہیں نشہ آور ادویات دینے اور کم از کم 14 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات کے تحت باضابطہ چارج شیٹ داخل کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن سے تعلق رکھنے والا یہ ضعیف العمر ملزم ڈیٹنگ ایپس پر خواتین کو اپنی میٹھی باتوں کے جال میں پھنساتا تھا۔ اعتماد میں لینے کے بعد وہ انہیں ملاقات پر مجبور کرتا۔ ملاقات کے دوران ملزم خواتین کے مشروبات میں نیند کی گولیاں اور نشہ آور دوا ملا دیتا تھا تاکہ وہ بے ہوش ہو جائیں۔
خواتین کے بے ہوش ہو جانے کے بعد ملزم ان کے ساتھ عصمت دری کرتا تھا چونکہ اس دوران متاثرہ خواتین مکمل طور پر بے سود اور بے ہوش ہوتی تھیں اس لیے ہوش میں آنے کے بعد انہیں اپنے ساتھ ہونے والے اس گھناؤنے جرم کا علم ہوتا تھا۔
اس گھناؤنے جرم کا پردہ فاش اس وقت ہوا جب ایک دوسرے ملزم کے خلاف جاری تفتیش کے دوران پولیس کو کچھ سراغ ملے۔ ان معلومات کی بنیاد پر جرمن پولیس نے اچانک اس معمر شخص کے گھر پر چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران ملزم کے گھر سے برآمد ہونے والی پین ڈرائیوس نے پولیس کے بھی ہوش اڑا دیے۔
ان پین ڈرائیوس میں ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے ملنے والی بے ہوش خواتین کے ساتھ کی گئی جنسی زیادتیوں کی متعدد ویڈیوس موجود تھے جنہیں ملزم مبینہ طور پر باقاعدگی سے دیکھا کرتا تھا۔ پولیس نے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔
پولیس کے مطابق اب تک حاصل ہونے والے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر ملزم کے خلاف 14 خواتین کے ساتھ 22 مرتبہ جنسی زیادتی کے واقعات کے تحت انتہائی سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم پراسیکیوٹرس کو شبہ ہے کہ اس درندے کا شکار بننے والی خواتین کی کل تعداد 58 تک ہو سکتی ہے۔ فی الحال کیس کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
موجودہ دور میں ڈیٹنگ ایپس کا استعمال کرنے والی نوجوانوں لڑکیوں کے لیے یہ واقعہ ایک سنگین وارننگ اور خطرے کی گھنٹی ہے کہ وہ اجنبی افراد سے ملتے وقت انتہائی چوکس اور محتا رہیں۔



