پہلگام دہشت گردانہ حملہ کیس۔ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

نئی دہلی۔ پہلگام دہشت گرد حملہ کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی کی خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیا ہے۔
این آئی اے نے 6 جولائی کو اس مقدمے میں ایک ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی جس کے دو دن بعد یعنی 8 جولائی کو خصوصی این آئی اے عدالت کے جج نے حافظ سعید کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا۔
حکام کے مطابق اس فیصلے کی اطلاع بعد میں منظرِ عام پر آئی۔یاد رہے کہ گزشتہ سال 22 اپریل کو جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس میں سیاحوں سمیت 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس حملے نے پورے ملک میں شدید تشویش پیدا کی تھی۔ این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق اس حملے کے پیچھے لشکرِ طیبہ کی سازش تھی، جس کے بعد تحقیقات مزید تیز کر دی گئیں۔
بھارت اور امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیے گئے 76 سالہ حافظ سعید کے خلاف یہ ضمنی چارج شیٹ جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی گئی۔
چارج شیٹ میں حافظ سعید کو نہ صرف لشکرِ طیبہ کا سربراہ بلکہ اس کی پراکسی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کا بانی بھی قرار دیا گیا ہے۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون اور بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی مختلف سخت دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ چارج شیٹ میں پیش کیے گئے شواہد مقدمے کی سماعت کے لیے کافی ہیں لہٰذا مقدمہ باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حافظ سعید کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا۔
این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ حافظ سعید جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کے رہنے والے ہیں اس حملے کے مرکزی ملزم ہیں اور جان بوجھ کر گرفتاری سے بچ رہے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ مقدمے کی غیر جانبدارانہ، جامع اور مؤثر تحقیقات کے لیے حافظ سعید کی گرفتاری اور تفتیش ضروری ہے اسی لیے ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا۔تاہم اگر حافظ سعید بھارت نہ بھی آئیں تب بھی مقدمے کی کارروائی جاری رہے گی۔



