انٹر نیشنل

افغانستان میں سرکاری ملازمین پر اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی – خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے سرکاری امور سے متعلق ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ طالبان نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی عہدیدار اسمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ عہدیداروں کے زیر استعمال اسمارٹ فون ضبط کرکے سینکڑوں فون ایک جگہ جمع کئے گئے اور انہیں عوامی طور پر تباہ کر دیا گیا۔

 

طالبان کی فوجی عدالتوں کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق یہ پابندی اعلیٰ عہدیداروں سے لے کر جنرل اسٹاف تک تمام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوگی، جبکہ صرف سپریم لیڈر کو فون استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ اگرچہ ان پابندیوں پر غیر رسمی طور پر کچھ عرصے سے عمل کیا جا رہا تھا، تاہم اب انہیں باضابطہ شکل دے دی گئی ہے۔

 

نئے احکامات کے تحت اگر کوئی عہدیدار اسمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کا فون فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا اور فوجی عدالتوں کے ضوابط اور شریعت کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ان ہدایات کے تحت پہلے ہی متعدد سرکاری اہلکاروں سے فون ضبط کئے جا چکے ہیں اور سینکڑوں فونوں کو اکٹھا کرکے تباہ کیا گیا ہے۔

 

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون کے استعمال کے باعث حساس اور اہم دستاویزات کے افشا ہونے، سرکاری کارکردگی میں کمی اور کاموں میں سستی جیسے مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ ان کے مطابق بعض افسران فون استعمال کرنے میں مصروف رہتے تھے اور اجلاسوں کے دوران بھی توجہ کام کے بجائے فون پر مرکوز رکھتے تھے۔

 

طالبان نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض اہم فیصلوں سے متعلق معلومات سپریم لیڈر کے دستخط سے قبل ہی عوام تک پہنچ رہی تھیں، جس سے خفیہ معلومات کے افشا ہونے کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ انہی وجوہات کے پیش نظر طالبان حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے اسمارٹ فون کے استعمال پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button