یو اے ای میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ نئی قرارداد کے مطابق 15 برس سے کم عمر بچے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے اور نہ ہی ان پلیٹ فارمز کی مکمل سہولیات سے استفادہ کر سکیں گے۔
نئے ضوابط کے تحت 15 سے 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کو مخصوص پابندیوں اور خصوصی حفاظتی اقدامات کے ساتھ سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
2024 میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق یو اے ای میں بچے اوسطاً روزانہ تین گھنٹے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گزارتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کا طویل استعمال بچوں میں بے چینی، توجہ کی کمی، تعلیمی مسائل اور بعض صورتوں میں بولنے کی صلاحیت کی نشوونما میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔
نئے قوانین کے تحت 15 سے 16 سال کے صارفین کے اکاؤنٹس پر خصوصی حفاظتی اقدامات نافذ کئے جائیں گے، جن میں عمر کے مطابق مواد کی درجہ بندی، نامناسب مواد پر پابندیاں، زیادہ خطرناک خصوصیات کی بندش، استعمال کے وقت کی نگرانی اور والدین کے لیے نگرانی کے خصوصی آلات (پیرنٹل کنٹرول ٹولز) شامل ہوں گے۔
سوشل میڈیا کمپنیوں کو ان معیارات پر عمل درآمد کے لیے زیادہ سے زیادہ 12 ماہ کی مہلت دی گئی ہے، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے ان ضوابط کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
اس طرح متحدہ عرب امارات بھی برطانیہ، آسٹریلیا اور ملائیشیا جیسے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے، جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو قانونی طور پر محدود کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دماغ میں ڈوپامائن کے اخراج کو متحرک کرتے ہیں، جس سے صارفین بار بار ان کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ لائکس، شیئرز اور تبصرے دماغ کے ریوارڈ سینٹر کو اسی طرح متحرک کرتے ہیں جیسے جوئے یا بعض نشہ آور اشیاء سے حاصل ہونے والی خوشی، جس کے باعث صارفین میں ان پلیٹ فارمز کی لت لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یو اے ای حکام کے مطابق بچوں کی ذہنی صحت، تحفظ اور متوازن نشوونما کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔



